حدیث

میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا، اور میرا ارادہ نماز کا نہیں بلکہ (میں صرف یہ بتانے کے لئے) نماز پڑھوں گا کہ میں ںے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي قِلابَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيِّ الْبَصْرِيِّ قال: «جاءنا مالك بن الْحُوَيْرِث في مسجدنا هذا، فقال: إني لَأُصَلِّي بكم، وما أُرِيدُ الصلاة، أُصَلِّي كيف رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي، فقلت لأبي قِلَابَةَ كيف كان يُصَلِّي؟ فقال: مثل صلاة شيخنا هذا، وكان يَجْلِسُ إذا رفع رأسه من السجود قبل أن يَنْهَضَ». أراد بشيخهم: أبا بُرَيد، عمرو بن سلمة الجرمي.

ترجمہ

ابو قلابہ عبد اللہ بن زید الجرمی بصری بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس مالک بن حویرث ہماری اس مسجد میں آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا۔ میرا ارادہ نماز کا نہیں بلکہ (میں صرف تمہیں یہ بتانے کے لئے) نماز پڑھاؤں گا کہ میں ںے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو قلابہ سے پوچھا کہ وہ کیسے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جیسے ہمارے یہ شیخ نماز پڑھتے ہیں۔ وہ جب سجدے سے سر اٹھاتے تو کھڑے ہونے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے۔ ان کے شیخ سے ان کی مراد ابو برید عمرو بن سلمہ جرمی تھے۔

تشریح

ابو قلابہ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک صحابی مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تمہیں ایک نماز پڑھاؤں جس سے میرا مقصد تمہیں عملی طریقے سے نبی ﷺ کی نماز سکھانا ہے تاکہ عملی شکل میں دی گئی تعلیم تمہیں زیادہ سمجھ آئے اور بہتر طور پر ذہن نشین ہو جائے۔ راوی حدیث نے ابو قلابہ سے پوچھا کہ: مالک بن حویرث جنہوں نے آپ کو نبی ﷺ کی نماز سکھائی وہ کیسے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ ایسے نماز پڑھتے تھے جیسے ہمارے یہ شیخ ابو یزید عمرو بن سلمہ جرمی نماز پڑھتے ہیں۔ وہ جب کھڑے ہونے کے لئے سجدے سے سر اٹھاتے تو کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر کے لئے بیٹھ جاتے تھے۔

تشریح: العربية

يقول أبو قلابة: جاءنا مالك بن الحويرث رضي الله عنه أحد الصحابة في مسجدنا، فقال: إني جئت إليكم لأصلي بكم صلاةً قصدت بها تعليمكم صلاة النبي صلى الله عليه وسلم بطريقة عملية؛ ليكون التعليم بصورة الفعل أقرب وأبقى في أذهانكم، فقال الراوي عن أبي قلابة: كيف كان مالك بن الحويرث الذي علمكم صلاة النبي صلى الله عليه وسلم يصلى؟ فقال: مثل صلاة شيخنا أبي يزيد عمرو بن سلمة الجرمي، وكان يجلس جلسة خفيفة إذا رفع رأسه من السجود للقيام، قبل أن ينهض قائماً.

  • جواز فعل العبادة؛ لأجل التعليم مع نية العبادة، وأنه ليس من التشريك في العمل فإن الأصل الباعث على هذه الصلاة هو إرادة التعليم، وهو قربة كما أن الصلاة قربة.
  • جواز التعليم بالفعل؛ ليكون أبقى في ذهن المتعلم.
  • استعمال أقرب الطرق في إيصال العلم إلى أفهام الناس.
  • حرص الصحابة على نشر السنة.
  • استحباب جلسة الاستراحة.
  • أن موضع جلسة الاستراحة عند النهوض من السجود إلى القيام.
  • أن القصد منها الاستراحة؛ لبعد السجود من القيام؛ لذا لم يشرع لها تكبير ولا ذكر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید