ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحيحمتفق عليه
عربی متن
عن عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ».
ترجمہ
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "تم میں سے جو شخص نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے، اسے چاہیے کہ غسل کرکے آئے"۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم زور دے کر فرما رہے ہیں کہ جو شخص جمعے کی نماز پڑھنے کے لیے آنا چاہے، اس کے لیے غسل جنابت کی طرح غسل کر لینا مستحب ہے۔
فوائد
- جمعہ کے دن غسل کرنے کی تاکید۔ مومن کے لیے جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے۔ بہتر یہ ہے کہ غسل نماز کے لیے جاتے وقت کیا جائے۔
- خوش بو کا اہتمام کرنا مسلمان کے اخلاق و آداب میں شامل ہے۔ لوگوں سے ملنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اور خاص طور سے جمعہ اور اجتماعوں میں شریک ہوتے وقت اس کے اہتمام کی تاکید بڑھ جاتی ہے۔
- حدیث میں خطاب ان افراد سے ہے، جن پر جمعہ واجب ہے، کیوں کہ وہی اس میں شریک ہوتے ہیں۔
- جمعہ میں شریک ہونے کے لیے صاف ستھرا ہونا مستحب ہے۔ غسل کر لینا چاہیے، تاکہ جسم سے کسی طرح کی کوئی بدبو نہ آئے۔ خوش بو لگا لینا چاہیے۔ لیکن اگر کسی نے صرف وضو کر لیا تب بھی کافی ہے۔
تشریح: العربية
يُؤَكِّدُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم على مَن أراد أنْ يأتي لصلاة الجمعة فإنه يستحب له أن يغتسل، مثل غُسلِه للجنابة.
- تأكيد غُسْل الجمعة، وأنه سنة للمؤمن يوم الجمعة وأنْ يكون عند الذهاب للصلاة أفضل.
- الحرص على النظافة وطيب الرائحة من أخلاق المسلم وآدابه، ويتأكد الأمر عند مُلاقاة الناس ومجالستهم، لا سيما في الجمع والجماعات.
- الخطاب في الحديث لِمَن تَجب عليه الجمعة؛ لأنه هو الذي يأتيها.
- يستحب لمن يأتي الجمعة أن يكون نظيفًا، فيغتسل حتى تزول الروائح من جسده ويتطيب، وإن توضأ فقط أجزأه ذلك.