حدیث

آپ ﷺ کھڑے ہوکر دو خطبے دیتے اور دونوں کے درمیان بیٹھ کر وقفہ کرتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

یہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عُمر بن الخطاب رضي الله عنهما قال: «كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب خطبتين يقعد بينهما» وفي رواية لجابر - رضي الله عنه-: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ وهو قائم، يفصل بينهما بجلوس».

ترجمہ

عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دو خطبے دیتے اور دونوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے۔ اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کھڑے ہوکر دو خطبے دیتے اور دونوں کے درمیان بیٹھ کر وقفہ کرتے۔

تشریح

جمعہ کے دن پورے شہر کے لوگوں کا بڑا مجمع ہوتا ہے اس لیے کہ آپ ﷺ اپنی حکمت سے لوگوں کو اس دن دو خطبے دیتے اور ان کو بھلائی کی طرف متوجہ کرتے اور بُرائی سے ڈراتے۔ آپ منبر پر کھڑے ہوکر دو خطبے دیتے، اس لیے کہ کھڑا ہونا تعلیم و وعظ کرنے میں زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ کھڑے ہونے میں اسلام کی قوت اور رونق کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ ﷺ جب پہلے خطبے سے فارغ ہوتے تو آرام کی غرض سے تھوڑا سا بیٹھ جاتے، یوں پہلے خطبے کو دوسرے خطبے سےالگ کردیتے، پھر کھڑے ہوکر دوسرا خطبہ دیتے، تاکہ خطیب تھکے نہیں اور سننے والا اکتائے نہیں۔

تشریح: العربية

يوم الجمعة مجمع كبير شامل لأهل البلد كلهم، ولذا كان النبي صلى الله عليه وسلم من حكمته يخطب الناس يوم الجمعة خطبتين، يوجههم فيهما إلى الخير، ويزجرهم عن الشر وكان يأتي بالخطبتين وهو قائم على المنبر؛ ليكون أبلغ في تعليمهم ووعظهم، ولما في القيام من إظهار قوة الإسلام وأبهته. فإذا فرغ من الخطبة الأولى، جلس جلسة خفيفة؛ ليستريح، فيفصل الأولى عن الثانية، ثم يقوم فيخطب الثانية؛ لئلا يتعب الخطيب، ويمل السامع.

  • وجوب الخطبتين في الجمعة قبل الصلاة، وأنهما شرطان لصحة صلاة الجمعة، فلم ينقل أنه -صلى الله عليه وسلم- صلاها بلا خطبة، ولو كان جائزا لفعله ولو مرة لبيان الجواز.
  • مشروعية قيام الخطيب في الخطبتين.
  • مشروعية الجلوس اليسير بين الخطبتين؛ للفصل بينهما.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید