حدیث

نبی کریم ﷺ نے عید الاضحی کی نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، اس کی قربانی صحیح ہوئی؛ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوئی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن البَرَاء بن عَازب رضي الله عنهما قال: «خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم يوم الأضحى بعد الصلاة، فقال: من صلى صلاتنا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فقد أصاب النُّسُكَ، ومن نسك قبل الصلاة فلا نُسُك له. فقال أبو بُرْدَةَ بن نِيَار -خال البَرَاء بن عَازبٍ-: يا رسول الله، إني نسكت شاتي قبل الصلاة، وعرفت أن اليوم يوم أكل وشرب، وأحببت أن تكون شاتي أول ما يذبح في بيتي، فذبحت شاتي، وتغديت قبل أن آتي الصلاة. فقال: شاتك شاة لحم. قال: يا رسول الله، فإن عندنا عَنَاقًا لنا هي أحب إلي من شاتين؛ أَفَتَجْزِي عني؟ قال: نعم، ولن تَجْزِيَ عن أحد بعدك».

ترجمہ

براء بن عازب رضی اللہ عنھما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عید الاضحی کی نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، اس کی قربانی صحیح ہوئی؛ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوئی“۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ابو بردہ بن نیار نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی بکری کی قربانی نماز سے پہلے کر دی، میں نے سوچا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے، میری بکری اگر گھر کا پہلا ذبیحہ بنے تو زیادہ اچھا ہو۔ اس خیال سے میں نے بکری ذبح کر دی اور نماز میں آنے سے پہلے ہی اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمھاری بکری محض گوشت کی بکری ہوئی۔ ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال کا بکری کا بچہ ہے اور وہ مجھے دو بکریوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ کیا اس سے میری قربانی ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! لیکن تمھارے بعد کسی کی قربانی اس عمر کے بچے سے کافی نہ ہو گی۔

تشریح

نبی کریم ﷺ نے عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد خطبہ دیا اور صحابۂ کرام کے روبرو قربانی اور اس کے وقت سے متعلق احکام واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے اس نماز کی طرح نماز ادا کی اور اس قربانی کی طرح اپنی قربانی کی، جس کے بارے میں نبی ﷺ کی ہدایت و رہ نمائی موجود ہے، اس نے شرعی اعتبار سے اپنی قربانی کی۔ البتہ جس نے عید کی نماز سے قبل قربانی کی، اس نے قربانی کا وقت شروع ہونے سے قبل ہی اپنی قربانی ذبح کر دی۔ چنانچہ اس کی حیثیت محض کھائے جانے والے گوشت کی ہوگی اور اس کا شمار مشروع اور مقبول قربانی میں نہ ہوگا۔ جب ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کا خطبہ سنا، تو عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے تو نماز سے قبل ہی اپنی بکری کی قربانی کردی اور مجھے یہ بات سجھائی دی کہ چوں کہ آج کھانے پینے کا دن ہے اور میرے نزدیک یہ امر بھی بہت عزیز تھا کہ میرے گھر میں سب سے پہلے میری بکری قربان کی جائے،اس لیے میں نے اپنی بکری کی قربانی کردی اور نماز عید کے لیے آنے سے قبل ہی میں نےاپنا ناشتہ بھی کرلیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ شرعی اعتبار سے تمھاری قربانی، قربانی نہیں ہوئی، بلکہ اس کی حیثیت محض بکری کے گوشت کی ہے۔انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے یہاں گھر کی پالی ہوئی ایک بکری ہے، جو میرے نزدیک بڑی قیمتی اور دو بکریوں کی سے زیادہ عزیز ہے، اگر میں اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری میں قربان کردوں اور اسے ذبح کردوں، تو میرے لیے کافی ہوگی یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ہاں! البتہ یہ حکم ساری امت کے لیے نہیں ہے، بلکہ خاص تمھارے لیے ہے؛ اس لیے امت مسلمہ کے لیے اس بکری کے بچے کی قربانی جائز نہیں، جس کا ایک سال پورا نہ ہوا ہو۔

تشریح: العربية

خطب النبي صلى الله عليه وسلم في يوم عيد الأضحى بعد صلاتها، فأخذ يبين لهم أحكام الذبح ووقته في ذلك اليوم، فذكر لهم أنه من صلى مثل هذه الصلاة، ونسك مثل هذا النسك اللذين هما هديه صلى الله عليه وسلم ، فقد أصاب النسك المشروع. أما من ذبح قبل صلاة العيد فقد ذبح قبل دخول وقت الذبح فتكون ذبيحته لحمًا لا نُسُكًا مشروعًا مقبولًا، فلما سمع أبو بردة خطبة النبي صلى الله عليه وسلم قال: يا رسول الله، إني ذبحت شاتي قبل الصلاة، وعرفت أن اليوم يوم أكل وشرب، وأحببت أن تكون شاتي أول ما يُذبح في بيتي، فذبحت شاتي، وتغديت قبل أن آتي إلى الصلاة. فقال صلى الله عليه وسلم : ليست نسيكتك أضحية مشروعة، وإنما هي شاة لحم. قال يا رسول الله: إن عندي عَنَاقا مُرَبّاة في البيت، وغالية في نفسي، وهي أحب إلينا من شاتين، أَفَتُجْزِي عنّي إذا أرخصتها في طاعة الله ونسكتها؟ قال صلى الله عليه وسلم : نعم، ولكن هذا الحكم لك وحدك من سائر الأمة خصيصة لك، فلا تُجْزِي عنهم عناق من المعزى ما لم تُتم سنة.

  • تقديم الصلاة على الخطبة في صلاة العيد، وأن هذا هو سنة النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • أن من حضر الصلاة والذكر ثم ذبح بعد الصلاة فقد أصاب السنة وحظي بالاتباع.
  • وقت الذبح يوم الأضحى يدخل بانتهاء صلاة العيد.
  • أن يوم العيد يوم فرح وسرور وأكل وشرب، فإذا أريد بذلك إظهار معنى العيد، فهو عبادة.
  • تخصيص النبي -صلى الله عليه وسلم- أبا بردة -رضي الله عنه- بإجزاء العناق، فهو له من دون سائر الأمة فلا يقاس عليه.
  • فيه دليل على أن المأمورات إذا وقعت على خلاف مقتضى الأمر لم يُعذر فيها بالجهل، وتبقى الذمة مشغولة إلى حين الإتيان بالمأمور، بخلاف المنهيات، وهذه قاعدة مليحة نافعة كما نبَّه ابن دقيق العيد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید