حدیث

بخیل وہ شخص ہے، جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه الترمذي والنسائي في الكبرى وأحمد

عربی متن

عَنِ الحُسَينِ بنِ عَلِيٍّ بنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ».

ترجمہ

حسین بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "بخیل وہ شخص ہے، جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ کسی کے سامنے آپ کا نام، کنیت یا وصف آئے اور آپ پر درود نہ بھیجے۔ فرمایا : پورا کا پورا بخیل وہ شخص ہے، جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں : 1- اس نے ایک ایسی چيز خرچ کرنے میں کنجوسی دکھائی، جس میں ذرا بھی گھاٹا نہیں ہے۔ اس میں نہ مال خرچ ہوتا ہے اور نہ محنت لگتی ہے۔ 2- اس نے خود کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کی فضیلت سے محروم رکھا۔ اس نے آپ پر درود بھیجنے سے باز رہ کر ایک ایسے حق کی ادائيگی میں کنجوسی دکھائی، جو اس سلسلے میں وارد حکم کی تعمیل اور اجر و ثواب کے حصول کے لیے اسے ادا کرنا تھا۔ 3- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنا ہمارے اوپر عائد آپ کے حقوق کی ادائيگی کی مختلف صورتوں میں سے ایک صورت ہے۔ کیوں کہ آپ نے ہمیں تعلیم دی، ہماری رہ نمائی فرمائی، ہمیں اللہ کی جانب بلایا، ہمارے پاس وحی اور ایک عظیم شریعت لے کر آئے۔ لہذا آپ اللہ کے بعد ہماری ہدایت کے سبب ہیں۔ چنانچہ آپ پر درود نہ بھیجنے والا خود اپنے نفس کے حق میں کنجوسی کرنے والا اور اپنے نبی کے ایک چھوٹے سے حق کی ادائيگی میں کنجوسی کرنے والا ہے۔

فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود نہ بھیجنا کنجوسی کی علامت ہے۔
  • ویسے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنا تمام اوقات میں ایک بہترین نیکی کا کام ہے، لیکن آپ کا ذکر آنے پر اس کی تاکید دو چند ہو جاتی ہے۔
  • نووی کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجتے وقت درود و سلام دونوں بھیجے۔ کسی ایک پر اکتفا نہ کرے۔ نہ صرف (صلى الله عليه) کہے اور نہ صرف (عليه السلام)۔
  • ابو العالیہ اللہ تعالی کے قول : (إن الله وملائكته يصلون على النبي) کے بارے میں کہتے ہیں : لفظ صلاۃ جب اللہ کی جانب سے نبی کے حق میں استعمال ہو، تو اس کے معنی تعریف کرنے کے ہیں اور فرشتوں اور انسانوں کی جانب سے استعمال ہو، تو اس کے معنی دعا کرنے کے ہیں۔
  • حلیمی کہتے ہیں : اس طرح "اللهم صلّ على محمد" کے معنی ہوئے : اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دنیا میں عظمت عطا فرما، آپ کے ذکر کو بلند کر کے، آپ کے دین کو غلبہ عطا کر کے اور آپ کی شریعت کو بقا مرحمت فرما کر۔ آخرت میں بھی عظمت عطا فرما، امت کے بارے میں آپ کی سفارش قبول فرما کر، بڑا اجر و ثواب مرحمت کر کے، مقام محمود کے ذریعے پہلے اور بعد کے تمام لوگوں پر آپ کی فضیلت ظاہر کر کے اور موجود مقرب ہستیوں پر آپ کو فوقیت دے کر۔
تشریح: العربية

حَذَّرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم مِن تَرْك الصلاة عليه حال سَمَاع اسمه أو كُنْيَتِه أو وصفه، وقال: البَخيل كامل البُخْل مَن ذُكرتُ عنده فلم يُصلِّ عليّ؛ وذلك لأمور: الأول: أنه بُخْلٌ بشيءٍ لا يَخْسَر بسببه قليلًا ولا كثيرًا، ولا يَبذُل مالًا، ولا يَبذُل جُهْدًا. الثاني: أنه بَخِلَ على نفسه وحَرَمَها أجرَ الصلاة على رسوله صلى الله عليه وسلم؛ لأنه بامتناعه من الصلاة عليه قد شَحَّ وامتنع من أداء حقٍّ يَتَعَيَّنُ عليه أداؤه امتثالًا للأمر وينال به الأجر. الثالث: أنَّ الصلاة عليه فيها أداء بعض حقِّ النبي صلى الله عليه وسلم، فهو الذي عَلَّمنا، وهو الذي أرشدَنا، وهو الذي دعانا إلى الله تبارك وتعالى، وجاءنا بهذا الوحي، وهذه الشَّريعة، فهو سبب هدايتنا -بعد الله تبارك وتعالى- ومَن لم يُصلِّ عليه يكون قد بَخِل على نفسه، وبَخِل على نبيِّه صلى الله عليه وسلم بحقٍّ هو من أدنى حقوقه.

  • تَرْك الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم عنوان الشُّحِّ.
  • الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم من أفضل القُرُبات والطاعات في جميع الأوقات، ويتأكّد حالَ ذِكْرِه.
  • قال النووي: إذا صلى على النبي صلى الله عليه وسلم فليَجمع بين الصلاة والتسليم، ولا يَقتصر على أحدِهما؛ فلا يَقل: (صلى الله عليه) فقط، ولا: (عليه السلام) فقط.
  • قال أبو العالية في قوله: (إن الله وملائكته يصلون على النبي) قال: صلاة الله عز وجل على نبيه: ثناؤه عليه، والصلاة من الملائكة والبشر: الدعاء.
  • قال الحليمي: فمعنى «اللهم صلّ على محمد»: اللهم عظّمه في الدنيا بإعلاء ذِكْرِه، وإظهار دينه، وإبقاء شريعته، وفي الآخِرة: بِتَشْفِيْعِهِ في أُمَّتِهِ، وإِجْزَال أجره ومثوبته، وإبداء فضله للأولين والآخرين بالمقام المحمود، وتقديمه على كافة المقربين الشهود.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید