ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے خوب اچھی طرح وضو کیا اور پھر جمعہ پڑھنے آیا اور خاموش ہو کر خطبہ سنا، تو اس کے جمعہ سے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جس نے ( جمعہ کے دوران) کنکر کو چھوا، اس نے لغو کام کیا۔"
تشریح
نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور اس کے ارکان، سنتوں اور آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعے کی نماز کے لیے حاضر ہوا، خاموشی سے اور کان لگا کر خطیب کی باتیں سنیں، اللہ اس کے دس دنوں کے صغیرہ گناہ معاف کر دیتا ہے۔ یعنی ایک جمعے کی نماز سے دوسرے جمعے کی نماز تک اور اضافی تین دنوں کے گناہ۔ کیوں کہ اللہ کے یہاں ایک نیکی کو بڑھا کر دس بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبے کے دوران کہی جانے والی باتوں کو پوری توجہ سے نہ سننے اور اعضا کو بے کار کے کاموں جیسے کنکر چھونے وغیرہ میں مشغول رکھنے سے خبر دار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس طرح کا کام کرنے والا لغو کام کرتا ہے اور لغو کام کرنے والے کو جمعے کے اجر و ثواب سے محروم رکھ دیا جاتا ہے۔
فوائد
- وضو کرنے، مکمل طور پر وضو کرنے اور پابندی سے جمعے کی نماز ادا کرنے کی ترغیب۔
- نماز جمعہ کی فضیلت۔
- خطبہ جمعہ کو خاموشی کے ساتھ سننا اور دوران خطبہ گفتگو وغیرہ سے گریز کرنا واجب ہے۔
- جس نے خطبے کے دوران لغو کام کیا، اس کی جمعے کی نماز ہو تو جاتی ہے اور فرضیت ساقط بھی ہو جاتی ہے، لیکن اجر و ثواب میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔
تشریح: العربية
يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن توضأ فأحسن وضوءه بإتمام أركانه والإتيان بسننه وآدابه، ثم أتى صلاة الجمعة وأنصت وأصغى للخطيب، وسكت عن اللغو؛ غفر الله له صغائر ذنوب عشرة أيام، من صلاة الجمعة إلى الجمعة الثانية وزياة ثلاثة أيام؛ لأن الحسنة بعَشر أمثالها، ثم حذَّر صلى الله عليه وسلم من عدم إقبال القلب عمّا يقال في الخطبة من مواعظ، ومِن عَبَثِ الجوارح مِن مَسِّ الحصى وغيره من أنواع العبث والانشغال، بأنَّ مَن فَعل ذلك فقد لغا، ومن لغا فلا حظ له في أجر جمعة كاملة.
- الحث على أداء الوضوء وإتمامه على كمال، والمحافظة على صلاة الجمعة.
- فضل صلاة الجمعة.
- وجوب الإنصات لخطبة الجمعة، وعدم التشاغل عنها بالكلام وغيره.
- من لغا أثناء الخطبة فصلاة الجمعة مجزئة ومسقطة للفرض، مع نقص الأجر.