حدیث

سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے، سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر رضي الله عنه : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَأَلَ أَهْلَهُ الأُدُمَ، فقالوا: مَا عِنْدَنَا إِلَّا خَلٌّ، فَدَعَا بِهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ، وَيَقُولُ: «نِعْمَ الأُدُمُ الخَلَّ، نِعْمَ الأُدُمُ الخَلَّ».

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس سرکے کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے وہی منگوایا اور کھانا شروع کردیا اور فرمانے لگے: ”سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے، سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے“۔

تشریح

نبی ﷺ نے اپنے گھر والوں سے روٹی کے ساتھ تناول فرمانے کے لئے کوئی سالن مانگا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس سرکے کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے اسے لانے کے لئے کہا۔ جب سرکہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے کھانا شروع کر دیا اور فرمانے لگے: سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے، سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے یہ سرکہ کی تعریف ہے اگرچہ سرکہ ایک مشروب ہے جسے پیا جاتا ہے، لیکن پینے کی شی پر بھی کھانے کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي﴾ ”جس نے اس میں سے پی لیا وہ میرے ساتھیوں میں سے نہیں، اور جس نے اسے نہ چکھا (کھایا) وہ میرے ساتھیوں میں سے ہے“۔ اس کے لیے کھانے کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اس کا ایک ذائقہ ہوتا ہے جسے چکھا جاتا ہے۔

تشریح: العربية

سأل النبي صلى الله عليه وسلم أهله طعاما يأكله بالخبز، فقالوا: ما عندنا شيء إلا الخل، فأمر بإحضاره فجيء به فجعل يأكل ويقول: نعم الأُدُمُ الخل، نعم الأُدُمُ الخل. وهذا ثناء على الخل، وإن كان الخل شرابا يشرب لكن الشراب يسمى طعاما؛ قال الله تعالى : {فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي}، وإنما سُمِيَ طعاما لأن له طعما يطعم.

  • استحباب مدح الطعام ولو كان بسيطا قليل الكلفة.
  • مدح الاقتصاد في الأكل، ومنع اعتياد النفس على الأطعمة الدسمة الكثيرة الكلفة.
  • تواضع النبي -صلى الله عليه وسلم- في طعامه وامتداحه له.
  • مدح الخل سواء كان المدح لفضل الخل أو تطييبا لخاطر أهله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید