حدیث

قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھا کر میدان حشر کی طرف لایا جائے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «يُحْشَرُ الناس يوم القيامة حفاة عراة غُرْلًا، قلت: يا رسول الله الرجال والنساء جميعا ينظر بعضهم إلى بعض؟ قال: يا عائشة الأمر أشد من أن يهمهم ذلك». وفي رواية : «الأمر أَهَمُّ من أن ينظر بعضهم إلى بعض».

ترجمہ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگوں کو قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھا کر میدان حشر کی طرف لایا جائے گا“۔ میں نے دریافت کیا کہ یار سول اللہ! مرد اور عورتیں سب اکٹھے، وہ تو ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! معاملہ ہی اتنا سخت ہو گا کہ انھیں اس کی سوجھے گی بھی نہیں“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”معاملہ اس سے کہیں اہم ہو گا کہ انھیں ایک دوسرے کو دیکھنے کا خیال آئے“۔

تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اس حال میں جمع کرے گا کہ نہ ان کے پاؤں میں جوتے ہوں گے اور نہ ان پر کپڑے ہوں گے۔ وہ غیر مختون ہوں گے۔ وہ اپنی قبروں سے اس حال میں نکلیں گے، جیسے اس دن تھے، جب ان کی ماؤں نے انھیں جنا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ننگے مرد اور ننگی عورتیں، وہ تو ایک دوسرے کو دیکھیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:معاملہ ہی اتنا بڑا اور سخت ہو گا کہ انھیں یہ سوجھے گا بھی نہیں یا یہ کہ اس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو دیکھیں گے ہی نہیں۔

تشریح: العربية

قالت عائشة رضي الله عنها : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: يجمع الله الناسَ يوم القيامة ليس لهم نعال، وليس عليهم ثياب، وغير مختونين، يخرجون من قبورهم كيوم ولدتهم أمهاتهم. فقالت عائشة رضي الله عنها : يا رسول الله، الرجال والنساء، عراة ينظر بعضهم إلى بعض. قال: الأمر أعظم وأشد من أن يهمهم ذلك، أو من أن ينظر بعضهم إلى بعض.

  • بيان لأهوال يوم القيامة، وأن الإنسان يومئذ لا يشغله شيء عن حسابه وأعماله.
  • بيان حال الناس يوم المحشر، وأنهم يكونون عراة رجالا ونساء.
  • تأكيد أن الإنسان لا يقع في المعصية إلا في حالة الغفلة؛ إذ لو تذكر عظمة من عصاه أو عقابه لما غفل عن ذكره وشكره وحسن عبادته طرفة عين، ولذلك ترى أهل المحشر مشغولين بأنفسهم لا ينظر بعضهم إلى بعض.
  • شدة حياء النساء في عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فهذه عائشة -رضي الله عنها- تستفسر بحياء عندما تسمع أن الخلق يحشرون عراة رجالا ونساء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید