حدیث

رسول اللہ ﷺ سجدے میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے اللہ! میرے تمام چھوٹے اور بڑے، اگلے اور پچھلے، علانیہ اور پوشیدہ گناہ معاف فرما دے۔‘‘

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "رسول اللہ ﷺ سجدے میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے اللہ! میرے تمام چھوٹے اور بڑے، اگلے اور پچھلے، علانیہ اور پوشیدہ گناہ معاف فرما دے۔‘‘

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سجدے میں یہ دعا کرتے تھے: "اللهم اغفر لي ذنبي" یعنی اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، ان پر پردہ ڈال دے، درگزر اور چسم پوشی فرما۔ "كله" سارے گناہ۔ یعنی "دِقّه" چھوٹے اور معمولی گناہ۔ "وجِلّه" بڑے اور زیادہ گناہ۔ "وأوله" پہلا گناہ۔ "وآخره" آخری گناہ اور درمیان کے تمام گناہ۔ "علانيته وسره" علانیہ اور پوشیدہ گناہ، جنھیں تیرے سوا کوئی نہيں جانتا۔

فوائد

  • ابن قیم کہتے ہيں: چھوٹے اور بڑے، معمولی اور غیر معمولی، پہلے اور بعد کے اور چھپے اور علانیہ تمام گناہوں سے، عموم اور شمول کے ساتھ مغفرت طلب اس لیے کی گئی ہے، تاکہ تمام گناہوں سے توبہ ہو جائے۔ بندہ جنھیں جانتا ہے ان سے بھی اور جنھیں نہیں جانتا ہے ان سے بھی۔
  • کسی نے کہا ہے: آپ نے 'الجِلّ' سے پہلے 'الدِّق' کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ مانگنے والا مانگتے وقت درجہ بہ درجہ آگے بڑھتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کبیرہ گناہ عام طور پر صغیرہ گناہوں پر اصرار اور ان کے بارے میں لاپرواہی کے نتیجے میں سامنے آتے ہيں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ صغیرہ گناہ کبیرہ گناہ کے وسائل ہیں اور وسائل کا ذکر پہلے ہونا چاہیے۔
  • عاجزی وانکساری اختیار کرکے اللہ سے چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے مغفرت طلب کرنی چاہیے۔
  • نووی کہتے ہيں: اس حدیث میں باربار دعا کرنے اور بہ کثرت دعا کے الفاظ استعمال کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، اگرچہ دعا کے بعض الفاظ بعض سے بے نیاز کرتے ہوں۔
تشریح: العربية

كَانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم يدعو في سجوده فيقول: (اللهم اغفر لي ذنبي) بِستْرِه، وأنْ تَقِيَني تَبِعَتَه؛ فتعفو وتتجاوز وتصفح، (كله)، أعني: (دِقّه) صغيره وقليله، (وجِلّه) كبيره وكثيره، (وأوله) أول ذنب، (وآخره)، وما بينهما، (علانيته وسره) مما لا يعلمه إلا أنت سبحانك.

  • قال ابن القيم: وطلب غفران الذّنوب الصِّغار والكبار، الدَّقيق والجليل، الأوّل والآخر، السّر والعلانية، فهذا التَّعميم وهذا الشُّمول لتأتي التَّوبة على ما عَلِمَه العبدُ من ذنوبه، وما لم يَعْلَمْه.
  • قيل: إنما قدّم (الدِّق) على (الجِلّ)؛ لأن السائل يتصاعد في مسألته أي يَتَرَقّى، ولأن الكبائر تنشأ غالبًا من الإصرار على الصغائر وعدم المبالاة بها، فكأنها وسائل إلى الكبائر، ومِن حق الوسيلة أنْ تُقَدّم إثباتًا ورفعًا.
  • التضرع إلى الله تعالى، وطلبه المغفرة من جميع الذنوب، الصغائر والكبائر.
  • قال النووي: فيه توكيد الدعاء وتكثير ألفاظه وإنْ أَغْنَى بعضُها عن بعض.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید