حدیث

”اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسنديده وہ آدمی ہے، جو سخت جھگڑالو ہو“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسنديده وہ آدمی ہے، جو سخت جھگڑالو ہو“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی سخت جھگڑا لو قسم کے شخص سے نفرت کرتا ہے، جو حق بات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتا ہو اور اسے اپنی بحث سے نکارنے کی کوشش کرتا ہو یا پھر جھگڑتا تو حق بات کے لیے ہو، لیکن جھگڑتے وقت حدّ اعتدال کو پارکر جاتا ہو اور بلا علم بحث کرتا ہو۔

فوائد

  • مظلوم شخص کا شرعی طریقے سے عدالت میں جاکر اپنا حق مانگنا مذموم جھگڑے کے دائرے میں نہیں آتا۔
  • بحث ومباحثہ اور جھگڑا زبان کی آفتوں میں سے ایک آفت ہے، جو مسلمانوں کے بیچ افتراق و انتشار کا سبب بنتا ہے۔
  • بحث اگر حق کے لیے کی جائے اور اس کا طریقہ اچھا ہو، تو قابل تعریف ہے۔ لیکن اگر حق بات کو دبانے اور باطل کو ثابت کرنے کے لیے کی جائے، یا پھر بنا کسی دلیل کے کی جائے، تو قابل مذمت ہے۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ الله تبارك وتعالى يُبغِض مِن الناس شديدَ الخُصُومةِ وكثيرِها، الذي لا يَقبلُ الانقيادَ للحق، ويُحاولُ دفعَه بجَدَلِه، أو يخاصم بحق لكنَّه يُبالِغُ في الخصومة ويخرج عن حدِّ الاعتدال، ويجادل بغير علم.

  • لا يدخلُ في بابِ الخصومات المذمومةِ مطالبةُ المظلوم بحقٍّ له بطريق المرافعات الشرعية.
  • الجدل والخصومة من آفات اللسان التي تُسبب الفرقة والتدابر بين المسلمين.
  • المجادلة محمودة إذا كانت في الحق وأسلوبها حسن، وتكون مذمومة إذا كانت لرد الحق وتثبيت الباطل، أو كانت بغير حجة ولا برهان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید