ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ».
ترجمہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں سمجھاتے ہوئے سنا، تو فرمایا : "حیا ایمان کا حصہ ہے۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو اپنے بھائی کو زیادہ حیا نہ کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے سنا تو اس کے سامنے یہ واضح کر دیا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے اور حیا سے انسان کا بھلا ہی ہوتا ہے۔ حیا ایک ایسی صفت ہے، جو انسان کو اچھا کام کرنے اور برے کام سے بچنے پر آمادہ کرتی ہے۔
فوائد
- جو اچھے کام سے روکے، اسے حیا نہیں، بلکہ خجالت، عاجزی، کم زوری اور بزدلی کہيں گے۔
- اللہ سے حیا کا مطلب ہے اس کے احکام کی تعمیل کرنا اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہنا۔
- لوگوں سے حیا کا مطلب ہے ان کا احترام کرنا، ان کو ان کا مناسب مقام دینا اور ان چیزوں سے دور رہنا جن کو عادۃ برا سمجھا جاتا ہے۔
تشریح: العربية
سَمِعَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم رجلًا ينصح أخاه أن يترك كثرةَ الحياء! فبَيَّن له أن الحياء من الإيمان، وأنه لا يأتي إلا بخير. والحياء خُلقٌ يَحْمِلُ على فِعْل الجميل وترك القبيح.
- ما يَمنعُك من الخير لا يُسمَّى حياءً، بل يُسمى خَجَلًا وعَجْزًا وخَوَرًا وجُبْنًا.
- الحياء من الله عز وجل يكون بفعل المأمورات، وترك المحظورات.
- الحياء مِن الخَلق يكون باحترامهم، وإنزالهم منازلهم، واجتناب ما يقبح عادةً.