ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن بريدة رضي الله عنه قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلاً يقول: اللهم إني أسألك بأني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد الصمد، الذي لم يلد، ولم يولد، ولم يكن له كفوًا أحد. فقال: «لقد سأل الله باسمه الذي إذا سُئِلَ به أعطى، وإذا دُعِيَ به أجاب»
ترجمہ
بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو یہ کلمات کہتے سنا:”اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ“ اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا ہے، نہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا:”اس نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے، تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے، تو قبول فرماتا ہے“۔
تشریح
یہ عظیم دعا مانگتے ہوئے آپ ﷺ نے ایک اعرابی کو سنا، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ اختیار کررہا تھا، جو کہ اسمِ اعظم اور اللہ کی توحید پر مشتمل ہے کہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، لوگ اس سے اپنی ضرورتیں مانگتے ہیں، اس کی کوئی اولاد نہیں، اس لیے کہ اس کا کوئی مثل نہیں، وہ ہر ایک سے مستغنی ہے، نہ وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔ کوئی اس کی ذات، صفات اور افعال میں اس کے مشابہ نہیں۔ یہ وہ عظیم معانی ہیں جو توحید کی اصل اور بنیاد کہلاتی ہیں اور جنھوں نے اس دعا کو عظیم دعاؤوں میں سے بنا دیا۔ جو بھی بندہ اس کے ذریعے اللہ سے دعا مانگتا ہے اللہ اسے جو مانگے عطا کرتا ہے۔
تشریح: العربية
هذا الدعاء العظيم الذي سمع النبي صلى الله عليه وسلم هذا الأعرابي يدعو به ويتوسل إلى الله تضمن اسم الله تعالى الأعظم، واشتمل على توحيد الله وأنه أحد صمد يسأله الناس حوائجهم، وهو لم يلد لأنه لامثيل له ولأنه مستغن عن كل أحد، ولم يولد، ولم يكن له كفواً أحد، فليس له أحد يماثله لا في ذاته ولا في صفاته ولا في أفعاله. فهذه المعاني العظيمة التي هي أصل ومدار التوحيد جعلت هذا الدعاء أعظم أنواع الأدعية، وما من عبدٍ دعا الله به إلا أعطي ما سأل.
- استحباب تقديم هذا الثناء على الله -تعالى- قبل الدعاء.
- استحباب التوسل إلى الله -تعالى- بالدعاء بأسمائه وصفاته الحسنى.
- أن أسماء الله -تعالى- الحسنى يتفاضل بعضها على بعض، وهو مذهب أهل السنة والجماعة.
- انفراد الله بالألوهية والصمدية.
- إثبات كمال الله تعالى؛ لأنه لم يلد ولم يولد.
- معرفة اسم الله الأعظم.