حدیث

مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

اس حديث کی سند حَسَنْ ہے۔اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ أَخِيهِ الْمُؤْمِنِ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن اپنے مومن بھائی کا آئینہ ہے“۔

تشریح

اس حدیث میں ایک بے مثل پیغمبرانہ بیان اور بلیغ (جامع ومعنى خيز) تشبیہ ہے، جو ايک مسلمان بھائی کے اپنے بھائی كے متعلق رویے کی وضاحت کرتی ہے اور اس کے تئیں اس کی ذمہ داری كا تعین کرتی ہے۔ چنانچہ مسلمان اپنے بھائی کی اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کرتا ہے تو وہ انہیں اپناتا ہے، اور برے اخلاق سے خبردار كرتا ہے تو وه ان سے گریز کرتا ہے۔ لہٰذا وہ اس کے ليے صیقل شدہ آئينے کے مانند ہے جو اسے اس کا سراپا حقيقى شكل میں دکھاتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مومن کو نصیحت کرنا واجب ہے۔ لہٰذا جب وه اپنے بھائی کى خامیوں اور غلطیوں میں سے کسی خامی اور غلطی پر مطلع ہو تو اسے اس پر متنبہ کرے اور ان کی اصلاح کى طرف اس کی راہنمائى كرے۔ البتہ یہ نصیحت صرف اس کے اور اس کے بھائی کے مابین ہونی چاہیے، کیونکہ برسرِعام نصیحت کرنا رسوائی ہے۔

تشریح: العربية

في الحديث وصف نبوي بديع، وتشبيه بليغ، يبين موقف الأخ المسلم من أخيه، ويحدد مسؤوليته تُجَاهَهُ، فيرشده إلى محاسن الأخلاق فيفعلها، وإلى مساوئ الأخلاق فيجتنبها، فهو له كالمرآة الصقيلة التي تريه نفسه على الحقيقة، وهذا يفيد وجوب النصح للمؤمن، فإذا اطلع على شيء من عيوب أخيه وأخطائه نبهه عليها وأرشده إلى إصلاحها، لكن بينه وبينه، لأن النصح في الملأ فضيحة.

  • أن المسلم إذا اطَّلع على عيب في أخيه أو خطأ أو زلل فإنه ينبهه وينصحه إلى هذه الأخطاء ويرشده إلى كيفية التخلص منها.
  • أن الواجب على المسلم أن يزين ويجمل أخاه المسلم عند الناس بإزالة أخطائه وزلاته.
  • الحث على أن تقبل النصح والإرشاد من أخيك؛ لأنه قد يرى فيك من الأخطاء ما لا ترى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید