ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ وَلَا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بہت زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن گواہی دینے والے نہیں ہوں گے اور نہ ہی شفاعت کرنے والے ہوں گے“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ غیر مستحق شخص پر بہت زیادہ لعنت کرنے والا دو سزاؤں کا مستحق ہے: پہلی: وہ قیامت کے دن اس بات کی گواہی نہیں دے گا کہ پچھلی امتوں کو ان کے رسولوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا تھا، دنیا میں اس فسق کی وجہ سے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور اسے اللہ کی راہ میں شہادت نصیب نہیں ہوگی۔ دوسری: قیامت کے دن، جب دوسرے مومن جہنم کے حق دار بن چکے اپنے مومن بھائیوں کے بارے میں سفارش کریں گے، تو وه سفارش نہیں کر سکے گا۔
فوائد
- لعنت وملامت کرنا حرام ہے اور کثرت سے لعنت کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
- اس حدیث میں بیان کی گئی سزا اس شخص کے بارے میں ہے، جو بہ کثرت لعنت کرتا ہو۔ ایک دو بار لعنت کرنے والے کے بارے میں نہیں۔ پھر لعنت کبھی کبھی مباح بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی بغیر کسی شخص کی تعیین کے مذموم اوصاف کے حامل لوگوں پر لعنت، جن پر شرعی طور پر لعنت کی گئی ہے۔ جیسے یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو، تصویر بنانے والوں پر اللہ کی لعنت ہو، قوم لوط والے عمل میں ملوث ہونے والے پر اللہ کی لعنت ہو، غیراللہ کے لیے جانور ذبح کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو، عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو، وغیرہ کہنا۔
- قیامت کے دن مومنوں کی شفاعت کا اثبات۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن يُكثر اللعن على مَن لا يستحق فهو مستحق لعقوبتين: الأولى: لا يكون شهيدًا يوم القيامة على الأمم بتبليغ رسلِهم إليهم الرسالات، ولا تقبل شهادته في الدنيا؛ لفسقه، ولا يرزق الشهادة وهي القتل في سبيل الله. الثانية: لا يشفع يوم القيامة حين يشفع المؤمنون في إخوانهم الذين استَوجَبوا النار.
- تحريم الَّلعن، وأنّ كَثرته من كبائر الذنوب.
- العقوبة في الحديث إنما هي لمن كثر منه اللعن، لا لِمَرّة ونحوها، ولأنه يخرج منه أيضًا اللعن المباح، وهو الذي ورد الشرع به بلعن أصحاب الأوصاف المذمومة بغير تعيين كقولك: «لعن الله اليهود والنصارى»، «لعنة الله على الظالمين»، «لعن الله المُصَوِّرين»، «لعن الله من عمل عمل قوم لوط»، «لعن الله من ذبح لغير الله»، «لعن الله المتشبِّهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال»، ونحو ذلك.
- إثبات شفاعة المؤمنين يوم القيامة.