ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن النعمان بن بَشِير رضي الله عنه قال: سمعت النبيَّ صلى الله عليه وسلم يقول: «الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ»، ثُمَّ قَرَأَ: «{وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} [غافر: 60]».
ترجمہ
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "دعا ہی عبادت ہے۔" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ} (اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں، وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔) [سورہ غافر : 60]
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ دعا ہی عبادت ہے۔ اس لیے دعا خالص طور پر اللہ کے لیے خاص ہونی چاہیے۔ چاہے دعا سوال و طلب پر مبنی ہو، مثلا یہ کہ اللہ سے دنیا و آخرت کی کوئی بھلائی مانگی جائے یا نقصان دہ چیز سے حفاظت مانگی جائے، یا پھر عبادت پر مبنی ہو۔ عبادت پر مبنی دعا سے مراد ہر وہ ظاہری و باطنی قول و عمل ہے، جو اللہ کو محبوب و پسند ہو۔ اس میں قلبی، بدنی اور مالی ساری عبادتیں داخل ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی دلیل پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں، وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔)
فوائد
- دعا ہی اصل عبادت ہے، اس لیے دعا غیر اللہ سے کرنا جائز نہيں ہے۔
- دعا بندگی کی حقیقت، اللہ کے غنی اور قادر ہونے کے اعتراف اور بندے کی اللہ کے سامنے حاجت مندی پر مشتمل ہے۔
- اللہ کی عبادت سے اعراض کرنے اور اس سے دعا کرنے سے گریز کرنے پر سخت وعید اور اس بات کی صراحت آئی ہے کہ اللہ سے دعا کرنے سے اعراض کرنے والے جہنم میں ذلیل و خوار ہوکر داخل ہوں گے۔
تشریح: العربية
أَخبرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أن الدعاء هو العبادة، فالواجب أن يكون كلُّه خالصًا لله، سواء كان دعاء مسألة وطلب، بأن يسأل الله تعالى ما ينفعه، ودفع ما يضره في الدنيا والآخرة، أو كان دعاء عبادة، وهي كلُّ ما يحبه الله ويرضاه من الأقوال والأعمال الظاهرةِ والباطنة، العبادات القلبية أو البدنية أو المالية. ثم استدلَّ النبي صلى الله عليه وسلم على ذلك حيث قال: قال الله: {ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين}.
- الدعاء أصل العبادة ولا يجوز صرفه لغير الله.
- الدعاء يتضمَّن حقيقة العبودية والاعتراف بغنى الرب وقدرته تعالى، وافتقار العبد إليه.
- الوعيد الشديد جزاء الاستكبار عن عبادة الله وترك دعائه، وأن الذين يستكبرون عن دعاء الله سيدخلون جهنم صاغرين حقيرين.