ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ سَلْمَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ، يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا».
ترجمہ
سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک تمہارا رب با حیا اور سخی ہے۔ وہ اپنی بارگاہ میں اپنے بندے کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو یوں ہی خالی لوٹاتے ہوئے حیا کرتا ہے۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دعا کے دوران دونوں ہاتھوں کو اٹھانے کی ترغیب دے رہے ہيں اور بتا رہے ہیں کہ اللہ بہت زیادہ حیا والا ہے۔ وہ نوازنے سے گریز نہيں کرتا۔ وہ بندے کا دامن خوشیوں سے بھر دیتا ہے اور اسے نقصانات سے بچاتا ہے۔ وہ کریم ہے اور بن مانگے بھی نوازتا ہے۔ تو بھلا مانگنے کے بعد کیسے نہیں دے گا!! اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ جب کوئی مومن بندہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کے ہاتھوں کو خالی ونامراد لوٹا دے۔
فوائد
- انسان جس قدر اللہ کے سامنے اپنی محتاجگی اور بندگی کا اظہار کرتا ہے، اس کی دعا قبول ہونے کی اتنی ہی زیادہ امید رہتی ہے۔
- دعا کی ترغیب۔ دعا کے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے۔ یہ دعا قبول ہونے کا ایک سبب ہے۔
- بندوں پر اللہ کا بے پایاں رحم وکرم۔
تشریح: العربية
يَحُثُّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم على رفع اليدين أثناء الدعاء، وأخبر أنَّ الله سبحانه (حَيي) كثير الحياء، ولا يترك العطاء، يفعل بالعبد ما يَسُرُّه، ويترك ما يَضرُّه، (كريم) يعطي من غير سؤال فكيف بعد السؤال! يَستحيي مِن عبده المؤمن أنْ يَرُدَّ يديه بعد رفعِها للدعاء فارغتين خاليتين خائبتين من إجابته.
- كلما أظهر الإنسان الافتقار إلى الله تعالى والتعبد، كان أرجى له وأقرب للإجابة.
- الترغيب في الدعاء، واستحباب رفع اليدين فيه، وأنه من أسباب الاستجابة.
- بيان سعة كرم الله ورحمته بعباده.