حدیث

”جو شخص اپنے بھائی کی عزت وناموس کا (اس کی غیر موجودگی میں) دفاع کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے دور کردے گا“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه الترمذي وأحمد

عربی متن

عن أبي الدرداء رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ رَدَّ اللهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

ترجمہ

ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جو شخص اپنے بھائی کی عزت وناموس کا (اس کی غیر موجودگی میں) دفاع کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے دور کردے گا“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جو شخص اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں کسی کو اس کی مذمت کرنے یا اس کے ساتھ برا سلوک کرنے سے روک کر اپنے مسلمان بھائی کا دفاع کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس سے عذاب کو دور رکھے گا۔

فوائد

  • مسلمانوں کی عزت و آبرو پر کیچڑ اچھالنے کی ممانعت۔
  • انسان کو جزا اسی نوعیت کی دی جائے گی، جس نوعیت کا اس کا عمل رہے گا۔ چنانچہ جو اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرے گا، اللہ اس سے جہنم کی آگ کو دور رکھے گا۔
  • اسلام آپسی بھائی چارے اور باہمی تعاون کا مذہب ہے۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن دافَعَ عن عِرْضِ أخيه المسلم في غَيْبته بمنع ذَمِّهِ أو الإساءة إليه، فإنَّ اللهَ يَرُدُّ عنه العذابَ يومَ القيامة.

  • النهي عن الكلام في أعراض المسلمين.
  • الجزاء من جنس العمل، فمن رَدَّ عن عِرض أخيه ردَّ الله عنه النار.
  • الإسلام دين التآخي والتناصُر بين أهله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید