ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ».
ترجمہ
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دن میں سو بار ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ پڑھا، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے دن میں سو بار "سبحان اللہ و بحمدہ" کہا، اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہيں اور مٹادیے جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر میں موجوں اور لہروں کے وقت ظاہر ہونے والے سفید جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
فوائد
- یہ اجر و ثواب دن میں لگاتار یہ دعا پڑھنے والے اور وقفے وقفے سے پڑھنے والے دونوں کو حاصل ہوگا۔
- تسبیح کا مطلب ہے: اللہ کو تمام نقائص سے پاک ماننا۔ اور حمد کا مطلب ہے: اسے ہر اعتبار سے کامل ماننا اور ساتھ میں اس سے محبت بھی رکھنا اور اس کی تعظیم بھی کرنا۔
- اس حدیث میں گناہوں کی معافی سے مراد صغیرہ گناہوں کی معافی ہے۔ کبیرہ گناہوں کے لیے توبہ ضروری ہے۔
تشریح: العربية
يُخبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن قال في يوم مائة مرة: «سبحان الله وبحمده»؛ مُحيتْ خطاياه وغُفِرت، ولو كانت كثيرة مثل الرَّغْوَة البيضاء التي تعلو البحر عند تَمَوُّجِه وهَيَجَانِه.
- هذا الأجر يحصل لمن قالها في اليوم مُتَوالِيَة أو مُتَفَرِّقة.
- التسبيح: هو تنزيه الله عن النقص، والحمد: وصفه بالكمال مع المحبة والتعظيم.
- المراد في الحديث تَكْفير صغائر الذنوب، وأمَّا الكبائر فلا بدَّ لها من توبة.