حدیث

اشعری قبیلے کے لوگ جب کسی جنگ میں مفلس ہوجائیں یا پھر مدینہ میں ان کے پاس اپنے اہل و عیال کے لیے توشہ کم ہوجائے!

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إنَّ الأشعريين إذا أرمَلُوا في الغَزْوِ، أو قَلَّ طعامُ عِيالِهم بالمدينةِ، جَمَعُوا ما كان عندهم في ثوبٍ واحدٍ، ثم اقتَسَمُوه بينهم في إناءٍ واحدٍ بالسَّوِيَّةِ، فَهُم مِنِّي وأنا مِنهُم".

ترجمہ

ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”اشعری قبیلے کے لوگ جب کسی جنگ میں مفلس ہوجائیں یا پھر مدینہ میں ان کے پاس اپنے اہل و عیال کے لیے توشہ کم ہوجائے تو ان کے پاس جو کچھ بھی ہوتا ہے اسے وہ ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں اور پھر اسے ایک برتن میں ڈال کر اپنے مابین برابر تقسیم کرلیتے ہیں ۔ چنانچہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“۔

تشریح

اشعری لوگ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلے کے لوگ ہیں۔ جب ان کے پاس کھانے کی کمی ہوتی یا پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد پر ہوتے تو اپنے کھانے کو اکٹھا کر کے برابر برابر باہم تقسیم کرلیتے ۔ اپنے اس فعل کی وجہ سے وہ اس بات کے سزاوار ٹھہرے کہ ان کی رسول اللہ ﷺ کی طرف شرف و محبت کی نسبت ہو اور آپ ﷺ بھی انہی میں سے ہیں یعنی ایثار و فرمانبرداری کے عظیم اخلاقی صفت کی راہ پر گامزن ہیں۔

تشریح: العربية

إن الأشعريين وهم قوم أبي موسى رضي الله عنه إذا قل طعامهم أو كانوا في الغزو للجهاد في سبيل الله جمعوا طعامهم واقتسموه بينهم بالمساواة، فلذلك استحقوا أن ينسبوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم نسبة شرف ومحبة، وهو كذلك منهم عليه السلام على طريقتهم في هذا الخلق العظيم من الإيثار ولزوم الطاعة.

  • بيان فضيلة الأشعريين.
  • جواز تحديث الرجل بمناقب قومه.
  • فضيلة الإيثار والمواساة.
  • استحباب خلط الزاد في السفر والحضر أيضاً.
  • جواز التأمين التعاوني، وهو أن يدفع أفراد أموالًا تعطى للمحتاج منهم، ويكون الفائض لصالح الجميع.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید