حدیث

بے شک قیامت والے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے ! میں بیمار ہوا اور تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قَال: قَالَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم : "إنَّ اللهَ عز وجل يَقُولُ يَومَ القِيَامَةِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدنِي! قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أعُودُكَ وَأنْتَ رَبُّ العَالَمِينَ؟!، قَالَ: أمَا عَلِمْتَ أنَّ عَبْدِي فُلاَناً مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ! أمَا عَلِمْتَ أنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَني عِنْدَهُ! يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمنِي! قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أطْعِمُكَ وَأنْتَ رَبُّ العَالَمِينَ؟! قَالَ: أمَا عَلِمْتَ أنَّهُ اسْتَطْعَمَكَ عَبْدِي فُلانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ! أمَا عَلِمْتَ أنَّكَ لَوْ أطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي! يَا ابْنَ آدَمَ، اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي! قَالَ: يَا رَبِّ، كَيْفَ أسْقِيكَ وَأنْتَ رَبُّ العَالَمينَ؟! قَالَ: اسْتَسْقَاكَ عَبْدِي فُلاَنٌ فَلَمْ تَسْقِهِ! أمَا عَلِمْتَ أنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي".

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پُرسی نہیں کی۔ وہ کہے گا: اے میرے رب میں کیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے مجھے نہیں کھلایا! وہ کہے گا: اے میرے رب، میں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے اسے کھانا نہیں کھلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو نے مجھے نہیں پلایا! وہ کہے گا : اے میرے رب میں کیسے آپ کو پلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے پینے کو کچھ مانگا اور تُو نے اسے نہیں پلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا!۔

تشریح

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔ وہ کہے گا: اے میرے رب میں کیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا آپ تو رب العالمین ہیں؟!، یعنی آپ کو تو ضرورت نہیں ہے کہ میں آپ کی بیمار پرسی کرتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اس حدیث میں کوئی اشکال نہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں بیمار ہوا تو تُو نے میری بیمار پرسی نہیں کی؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو کسی بیماری کا لاحق ہونا ناممکن ہے؛ کیوں کہ بیمار ہونا صفتِ نقص ہے جب کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے عیبوں سے پاک ہے، لیکن یہاں بیماری سے مراد اس کے نیک اور صالح بندوں میں سے کسی بندے کا بیمار ہونا ہے جو کہ اس کے خاص لوگ ہوتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اور یہ نہیں فرمایا کہ تُو اس کا اجر میرے پاس پاتا جیسا کہ آگے چل کر کھانے اور پینے کے بارے میں فرمایا، بلکہ یہاں تو یہ فرمایا کہ تُو مجھے اس کے پاس پاتا، اور یہ بات مریض کی اللہ تعالیٰ سے قربت پر دلالت کرتی ہے، اسی لیے علماء کا کہنا ہے کہ مریض کا کسی شخص کے لیے دعاء یا بد دعاء کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں سنا جاتا ہے۔ اللہ کا یہ فرمان : اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تُو نے مجھے نہیں کھلایا!، یعنی میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تُو نے مجھے نہیں کھلایا، یہ تو بات تو طَے شدہ ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے لیے تو کھانا طلب نہیں کرتا اس کا فرمان ہے: ﴿وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ﴾ ”وہی ہے جو کھانے کو دیتا ہے، اس کو کوئی کھانے کو نہیں دیتا“ (الأنعام: 14) وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے اسے نہ کھانے کی ضرورت ہے نہ تو پینے کی حاجت ہے، لیکن دنیا میں اس کے بندوں میں سے کسی بندے کو بھوک لگی تو ایک شخص نے باوجود جاننے کے اسے کھانا نہ کھلایا تو ارشاد فرمایا: اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا“ یعنی اس کھلانے کا ثواب میرے پاس میرے خزانون سے پاتا میرے پاس ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اللہ کا یہ فرمان: اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو تُو نے مجھے نہیں پلایا، یعنی میں نے تجھ سے پینے کی کوئی چیز مانگی تو تُو نے مجھے نہیں دی تو بندہ کہے گا :میں کیسےآپ کو پلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟، یعنی آپ کو تو کھانے پینے کی ضرورت ہی نہیں، تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے کو پیاس لگی یا اس نے تجھ سے پانی مانگا، اور تو نے اسے نہیں پلایا، کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پانی پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی پیاسا آپ سے پانی مانگے تو اسے پانی پلانے پر آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پلانے کا ثواب (خزانوں میں) جمع ہو گا، ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

تشریح: العربية

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "يقول الله تعالى يوم القيامة: يا ابن آدم مرضت فلم تعدني، قال: كيف أعودك، وأنت رب العالمين"، يعني: وأنت لست بحاجة إلي حتى أعودك، قال: أما علمت أن عبدي فلاناً مرض فلم تعده، أما إنك لو عدته لوجدتني عنده. هذا الحديث ليس فيه إشكال في قوله تعالى: مرضت فلم تعدني؛ لأن الله تعالى يستحيل عليه المرض؛ لأن المرض صفة نقص والله سبحانه وتعالى منزه عن كل نقص، لكن المراد بالمرض مرض عبد من عباده الصالحين وأولياء الله سبحانه وتعالى هم خاصته، ولهذا قال: أما إنك لو عدته لوجدتني عنده، ولم يقل لوجدت ذلك عندي كما قال في الطعام والشراب، بل قال: لوجدتني عنده، وهذا يدل على قرب المريض من الله عز وجل، ولهذا قال العلماء: إن المريض حري بإجابة الدعاء إذا دعا لشخص أو دعا على شخص. قوله: "يا ابن آدم استطعمتك فلم تطعمني"، يعني طلبت منك طعاماً فلم تطعمني، ومعلوم أن الله تعالى لا يطلب الطعام لنفسه لقول الله تبارك وتعالى: "وهو يُطعِم ولا يُطعَم" الأنعام: 14، فهو غني عن كل شيء لا يحتاج لطعام ولا شراب، لكن جاع عبد من عباد الله فعلم به شخص فلم يطعمه، قال الله تعالى: "أما إنك لو أطعمته لوجدت ذلك عندي"، يعني: لوجدت ثوابه عندي مدخراً لك الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة. قوله: "يا ابن آدم استسقيتك"، أي: طلبت منك أن تسقيني فلم تسقيني، قال: "كيف أسقيك وأنت رب العالمين؟"، يعني: لست في حاجة إلى طعام ولا شراب، قال: "أما علمت أن عبدي فلاناً ظمئ أو استسقاك فلم تسقه، أما علمت أنك لو سقيته لوجدت ذلك عندي"، إسقاءُ من طلب منك السقيا فأسقيته يجعلك تجد ذلك عند الله مدخراً الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة.

  • إثبات صفة الكلام لله -تعالى-.
  • الحث على عيادة المريض وإطعام الطعام وبذل الماء لمن يحتاج إليه.
  • الحسنات لا تضيع، وأنها عند الله بمكان.
  • الحديث حجة تبطل عقيدة الحلول والاتحاد، فهو ظاهر في العيادة والإطعام والإسقاء حيث أثبت عبد ومعبود، ورب ومربوب، وخالق ومخلوق، تعالى الله عما يصفون علواً كبيراً.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید