حدیث

اے اللہ کے رسولﷺ! کون سا شخص سب سے افضل ہے؟

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحیہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: قال رجلٌ: أي الناسِ أفضل يا رسول الله؟ قال: «مؤمنٌ مجاهدٌ بنفسِه ومالِه في سبيل الله» قال: ثم مَن؟ قال: «ثم رجلٌ معتزلٌ في شِعب من الشِّعَاب يعبدُ ربَّه، ويدعُ الناسَ من شره». وفي رواية: «يتقِي اللهَ، ويدعُ الناسَ مِن شَره».

ترجمہ

ابو سعیدی الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! کون سا شخص سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مومن جو اپنے جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے“۔ اس نے پوچھا: اس کے بعد کون سا شخص زیادہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ”وہ مومن جو گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں عزلت نشین ہو کر اپنے رب کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے“۔ ایک روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں ”جو اللہ سے ڈرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے“۔

تشریح

نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سا شخص سب سے بہتر ہے؟۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ وہ شخص جو اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ آپ ﷺ سے مزید دریافت کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا شخص سب سے بہتر ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں عزلت نشین ہوکر اللہ کی عبادت کرنے والا اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کردینے والا شخص۔ یعنی جو اللہ کی عبادت میں لگا رہتا ہے، لوگوں سے تعرض کرنے سے باز رہتا ہے اور یہ نہیں چاہتا کہ ان کے ساتھ کچھ بُرا کرے۔

تشریح: العربية

سئل النبي صلى الله عليه وسلم أي الرجال خير؟ فبين أنه الرجل الذي يجاهد في سبيل الله بماله ونفسه، قيل: ثم أي؟ قال: ورجل مؤمن في شعب من الشعاب يعبد الله ويدع الناس من شره. يعني: أنه قائم بعبادة الله كاف عن الناس ولا يريد أن ينال الناس منه شر.

  • استحباب السؤال عما يحتاج إليه الإنسان من أمور الدين.
  • مخالطة الناس عند فسادهم مدعاة لارتكاب الآثام.
  • بيان فضل الجهاد في سبيل الله بالنفس والمال.
  • فضل العزلة عند خوف الفتنة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید