حدیث

میری چادر مجھے دے دو، اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں ان سب کو تم میں تقسیم کردیتا، مجھے تم بخیل نہیں پاؤ گے اور نہ ہی جھوٹا اور بزدل پاؤگے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال: بينما هو يسير مع النبي صلى الله عليه وسلم مَقْفَلَه من حُنَيْن، فَعَلِقَهُ الأعراب يسألونه، حتى اضطروه إلى سَمُرَة، فَخَطِفَت رداءه، فوقف النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «أعطوني ردائي، فلو كان لي عدد هذه العِضَاهِ نَعَمًا، لقسمته بينكم، ثم لا تجدوني بخيلًا ولا كذابًا ولا جبانًا».

ترجمہ

جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہے تھے، آپ کے ساتھ اور بہت سے صحابہ بھی تھے۔ وادیٔ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ کچھ ( بدو ) لوگ آپ ﷺ سے لپٹ گیے اور مانگنا شروع کردیا۔ بالآخر آپ کو مجبوراً ایک ببول کے درخت کے پاس جانا پڑا۔ وہاں آپ کی چادر مبارک ببول کے کانٹوں میں الجھ گئی، فرمایا: ”میری چادر مجھے دے دو، اگر میرے پاس اِس درخت کے کانٹوں جتنے بھی اونٹ بکریاں ہوتیں تو میں اُن سب کو تم میں تقسیم کردیتا، مجھے تم بخیل نہیں پاؤ گے اور نہ جھوٹا اور بزدل پاؤگے“۔

تشریح

رسول اللہ ﷺ جب غزوۂ حنین سے واپس آ رہے تھے اور یہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ آپ ﷺ کے ساتھ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ کچھ لوگ رسو ل اللہﷺ سے لپٹ گیے اور آپ سے مال غنیمت میں سے مال مانگنے لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو ایک ببول کے درخت کے پاس پناہ لینے پر مجبور کردیا (ببول دیہاتوں میں ایک خاردار درخت ہوتا ہے)۔ آپ ﷺ کی چادر اس کے کانٹوں سے الجھ گئی، اور بدوؤں نے وہ چادر کھینچ لی۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: میری چادر مجھے دے دو، اگر میرے پاس درخت کے کانٹوں جتنے بھی (یہ بہت زیادہ خار دار درخت ہوتا ہے) اونٹ ،گائے اور بکریاں ہوتیں تو میں اُن سب کو تم میں تقسیم کردیتا۔ پھرفرمایا کہ: اگر اس وقت مجھے آزماؤ گے تو مجھے تم بخیل، جھوٹا اور بزدل نہیں پاؤگے۔

تشریح: العربية

لما رجع النبي صلى الله عليه وسلم من غزوة حنين، وهو وادٍ بين مكة والطائف، وكان معه جبير بن مطعم رضي الله عنه ، فتعلق الناس به يسألوه من الغنائم حتى ألجؤوه إلى شجرة سمرة -وهي من شجر البادية ذات شوك- فعلق رداءه بشوكها، فجبذه الأعراب، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : أعطوني ردائي لو كان لي عدد العضاه -وهي شجرة كثيرة الشوك- نعماً من الإبل والبقر والغنم لقسمته بينكم، ثم قال: وإذا جربتموني لا تجدوني بخيلًا ولا كذابًا ولا جبانًا.

  • بيان لما كان عليه النبي -صلى الله عليه وسلم- من الحلم وحسن الخلق وسعة الصدر، والصبر على جفاء الأعراب وغلظتهم.
  • ذم البخل والكذب والجبن، وأن إمام المسلمين لا ينبغي أن تكون فيه خصلة منها.
  • جواز وصف المرء نفسه بالخصال الحميدة عند الحاجة.
  • رضا السائل للحق بالوعد إذا تحقق عن الواعد التنجيز والوفاء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید