ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِنِسَائِهِمْ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تمھارے اندر سب سے اچھا انسان وہ ہے، جو اپنی عورتوں کے حق میں سب سے اچھا ہو۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ سب سے کامل ایمان والا مؤمن وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ دراصل حسن اخلاق کا مظاہرہ مسکرا کر ملنے، دوسروں کا بھلا کرنے، خوش کلامی کرنے اور کسی کو تکلیف نہ دینے سے ہوتا ہے۔ اسی طرح سب سے بہتر مؤمن وہ ہے جو اپنی عورتوں، مثلا بیوی، بیٹیوں، بہنوں اور دیگر رشتے دار عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو۔ کیوں کہ یہ عورتیں حسن اخلاق کی سب سے زیادہ حق دار ہیں۔
فوائد
- اچھے اخلاق کی فضیلت اور ان کا ایمان کا حصہ ہونا۔
- عمل بھی ایمان میں داخل ہے اور ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے۔
- اسلام نے عورت کو عزت و احترام کا مقام دیا ہے اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی ترغیب دی ہے۔
تشریح: العربية
يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ أَكْمَلَ الناس إيمانًا مَن حَسُنَ خُلُقُه، وذلك بطَلَاقَةِ الوجه، وبذل المعروف، وحسن الكلام، وكف الأذى. وخَيْرَ المؤمنين خيرُهم لنسائِهِ، كزَوجتِه وبَناتِه وأخواتِه وقَريباتِه؛ لأنهن مِن أحقِّ الناس بحُسْنِ الخُلُق.
- فضيلة الأخلاق الحسنة وأنها من الإيمان.
- العمل من الإيمان، والإيمان يزيد وينقص.
- إكرام الإسلام للمرأة والترغيب في الإحسان إليها.