حدیث

بے شک دین آسان ہے۔ جو شخص دین کے معاملے میں سختی اختیار کرے گا، اس پر دین غالب آ جائے گا۔ چنانچہ اپنے عمل میں راستگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "بے شک دین آسان ہے۔ جو شخص دین کے معاملے میں سختی اختیار کرے گا، اس پر دین غالب آ جائے گا۔ چنانچہ اپنے عمل میں راستگی اختیار کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ، اور صبح و شام اور کسی قدر رات میں (عبادت کے ذریعہ) مدد حاصل کرو"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ مذہب اسلام کی بنیاد تمام معاملات میں آسانی اور سہولت فراہم کرنے پر رکھی گئی ہے۔ یہ آسانی اور سہولت اس وقت کہیں زیادہ فراہم کی گئی ہے، جب عجز و حاجت موجود ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ دینی اعمال میں تعمق اور ترک رفق کا انجام عجز اور انقطاع عمل کی صورت ہی میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے بعد رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے میانہ روی کی ترغیب دی۔ بندہ نہ تو شرعی احکام کی بجا آوری میں کوتاہی سے کام لے اور نہ اپنے اوپر ایسی چیزیں لادے، جنھیں اٹھانے کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ اگر کامل ترین پر عمل نہ کر سکے، تو اس سے قریب ترین پر عمل کرے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے شخص کو بڑے اجر و ثواب کی خوش خبری دی ہے، جو کامل ترین پر عمل نہ کر پانے کی وجہ سے تھوڑا سا عمل ہی کرتا ہو، لیکن اس میں تسلسل ہو۔ کیوں کہ عدم استطاعت میں اگر بندے کا عمل دخل نہ ہو، تو اس سے اس کے اجر و ثواب میں کمی نہیں آتی۔ پھر چوں کہ دنیا سفر کی جگہ اور آخرت کی گزرگاہ ہے، اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تین نشاط آمیز اوقات میں تسلسل کے ساتھ عبادت کے ذریعے مدد حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تین اوقات اس طرح ہیں: 1- الغدوۃ : دن کے پہلے حصے میں چلنا۔ دن کے پہلے حصے سے مراد فجر کی نماز سے لے کر سورج نکلنے کے درمیان کا وقت ہے۔ 2- الروحۃ : زوال کے بعد چلنا۔ 3- دلجۃ : پوری رات یا رات کے کچھ حصے میں چلنا۔ چوں کہ رات میں کام کرنا دن میں کام کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے، اس لیے "وشيءٍ من الدلجة" کہہ کر اس کے کچھ حصے میں کام کرنے کا حکم دیا ہے۔

فوائد

  • اسلامی شریعت آسانى، کشادگى اور افراط و تفریط سے دور اعتدال کی حامل شریعت ہے۔
  • انسان کو کوئی بھی کام اپنی استطاعت کے مطابق کرنا چاہیے۔ نہ سستی کا عمل دخل ہو اور نہ انتہا پسندی کا۔
  • انسان کو عبادت کے لیے ایسے اوقات کا انتخاب کرنا چاہیے، جب طبیعت میں نشاط اور چستی ہو۔ مذکورہ تین اوقات ایسے ہیں کہ ان میں جسم عبادت کی جانب سب سے زیادہ آمادہ رہتا ہے۔
  • ابن حجر کہتے ہيں: یہاں ایک طرح سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی منزل کی جانب سفر کر رہے شخص کو مخاطب کیا ہے۔ چوں کہ اس حدیث میں مذکور تین اوقات سفر کے لیے سب سے مناسب اوقات ہیں، اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی نشان دہی فرما دی۔ کیوں کہ اگر مسافر رات دن چلتا ہی رہ جائے، تو کچھ دوری طے کرنے کے بعد تھک ہارکر بیٹھ جائے گا۔ اس کے برعکس اگر ان نشاط آمیز اوقات میں چلے اور اس کے بعد آرام کرے تو سفر کو جاری رکھنا آسان ہو جائے گا۔
  • ابن حجر کہتے ہيں: اس حدیث میں اشارہ شرعی رخصت پر عمل کرنے کی جانب ہے۔ کیوں کہ جہاں رخصت ہو، وہاں عزیمت سے چپکے رہنا، انتہا پسندی ہے۔ مثلا کسی کے لیے پانی کا استعمال ممنوع ہو اور تیمم کے بجائے وضو کرنے پر مصر رہے اور اس کی وجہ سے اس کا نقصان بھی ہو جائے۔
  • ابن المنیر کہتے ہیں: یہ حدیث محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے برحق نبی ہونے کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ ہم نے اور ہم سے پہلے کے لوگوں نے دیکھا ہے کہ طاقت سے زیادہ عمل کا بوجھ اٹھانے کی کوشش کرنے والا ہر شخص تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ یہاں عبادت کی کامل ترین روش پر گام زن ہونے سے منع نہیں کیا گیا ہے۔ یہ تو ایک قابل ستائش رویہ ہے۔ منع افراط سے کیا گیا ہے جو تھک ہار کر بیٹھ جانے کا سبب بنتا ہے، نفلی عبادتوں میں مبالغے سے منع کیا گیا ہے جو ترک افضل یا کسی فرض کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے کا سبب بنتا ہے۔ جیسے کوئی رات بھر تہجد پڑھ کر سوگیا اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا نہ کر سکا یا پھر سورج نکلنے تک سویا ہی رہ گیا۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ دينَ الإسلامِ مبنيٌّ على التيسير والسهولة في كل شؤونه، ويتأكد التيسير عند وجود سبب العجز والحاجة، ولأنَّ التعمُّقَ في الأعمال الدينية وترك الرفق عاقبتُه العجز والانقطاع عن العمل كله أو بعضه، ثم حث صلى الله عليه وسلم على التوسط من غير مبالغة؛ فلا يُقصِّر العبد فيما أُمر به، ولا يتحمل ما لا يطيقه، فإن عجز عن العمل بالأكمل؛ فالعمل على ما يَقْرُبُ منه. وبشَّر صلى الله عليه وسلم بالثواب الجزيل على العمل الدائم وإن قلَّ لمَن عجز عن العمل بالأكمل؛ لأن العجز إذا لم يكن من صنيعه فلا يستلزم نقص أجره. وحيث أن الدنيا في الحقيقة دار سفر ونُقْلة إلى الآخرة أمر صلى الله عليه وسلم بالاستعانة على مداومة العبادة بإيقاعها في الأوقات الثلاثية المنشطة: الأول: الغَدوة: بسير أول النهار؛ ما بين صلاة الفجر وطلوع الشمس. الثاني: الرَّوحة: بالسير بعد الزوال. الثالث: الدُّلْجة: بسير الليل كله أو بعضه، ولأن عمل الليل أشق من عمل النهار أمر ببعضه بقوله: وشيءٍ من الدلجة.

  • يُسر وسماحة الشريعة الإسلامية وتوسُّطها بين الإفراط والتفريط.
  • على العبد أن يأتي بالأمر بقدر استطاعته، من دون تساهل أو تشديد.
  • على العبد أن يختار أوقات النشاط في العبادة، وهذه الأوقات الثلاثة بخصوصها هي أروح ما يكون فيها البدن للعبادة.
  • قال ابن حجر العسقلاني: كأنه صلى الله عليه وسلم خاطب مسافرًا إلى مقصدٍ، وهذه الأوقات الثلاثة أطيب أوقات المسافر، فنبهه على أوقات نشاطه؛ لأن المسافر إذا سافر الليل والنهار جميعًا عجز وانقطع، وإذا تحرَّى السير في هذه الأوقات المنشطة أمكنته المداومة من غير مشقة.
  • قال ابن حجر: الإشارة في هذا الحديث إلى الأخذ بالرخصة الشرعية، فإنّ الأخذ بالعزيمة في موضع الرخصة تَنَطُّعٌ، كمن يترك التيمم عند العجز عن استعمال الماء فيفضي به استعماله إلى حصول الضرر.
  • قال ابن المنير: في هذا الحديث عَلَمٌ من أعلام النبوة، فقد رأينا ورأى الناس قبلنا أن كل متنطع في الدين ينقطع، وليس المراد مَنْعِ طلب الأكمل في العبادة فإنه من الأمور المحمودة، بل منع الإفراط المؤدّي إلى الملال، أو المبالغة في التطوع المفضي إلى ترك الأفضل، أو إخراج الفرض عن وقته كمَن بات يصلي الليل كلَّه فنام عن صلاة الصبح في الجماعة، أو إلى أن طلعت الشمس فخرج وقت الفريضة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید