حدیث

تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور وقار (یعنی جلد بازی نہ کرنا)۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأشج عبد القيس: «إن فيك خصلتين يحبهما الله: الحلم والأناة»

ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اشج عبد القيس سے کہا کہ ”تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور وقار (یعنی جلد بازی نہ کرنا)‘‘۔

تشریح

نبی ﷺ نے قبیلہ بنی عبد قیس کے اشج نامی شخص سے کہا کہ تمہارے اندر دو خصلتیں یعنی عادتیں ایسی ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں۔ وہ دو عادتیں بُردباری اور عدم عجلت ہیں۔اس لیے کہ اشج نے متانت اور وقار اختیار کرکے اپنے قرین مصلحت امور میں غور وفکر کیا اور اپنی قوم کے ساتھ آپ ﷺ کے پاس آنے میں جلدبازی سے کام نہیں لیا۔ ان کی بُردباری آپ ﷺ کے ساتھ گفتگو سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان کی گفتگو ان کی سلامتِ عقل اورانجام کار پر گہری نظر کے حامل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

تشریح: العربية

قال النبي صلى الله عليه وسلم للأشج من بني عبد قيس: إن فيك لخصلتين أي صفتين يحبهما الله ورسوله، وهما الحلم وعدم التسرع، والسبب أن الأشج تأنى حتى نظر في مصالحه ولم يعجل في القدوم مع قومه (والحلم) وذلك في مخاطبته للنبي صلى الله عليه وسلم فكلامه كان دالاً على صحة عقله وجودة نظره للعواقب.

  • إثبات صفة الحب لله -تعالى-.
  • الأخلاق منها ما هو جبلي ومنها ما هو مكتسب؛ لأنه قال في الحديث: أخلقين تخلقت بهما أم جبلني الله عليهما؟ قال: (بل جبلك الله عليهما).
  • الحض على التثبت في الأمور والنظر في العواقب.
  • الحلم والأناة من صفات العقلاء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید