حدیث

میرے نزدیک تم میں سے (دنیا میں) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ نزدیک بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں اور میرے نزدیک تم میں (دنیا میں) سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو باتونی، بلااحتیاط بولنے والے، زبان دراز اور تکبر کرنے والے ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر بن عبدالله رضي الله عنهما مرفوعاً: «إن من أحبكم إلي وأقربكم مني مجلساً يوم القيامة أحاسنكم أخلاقاً، وإن أبغضكم إلي وأبعدكم مني يوم القيامة الثرثارون والمتشدقون والمتفيهقون» قالوا: يا رسول الله قد علمنا «الثرثارون والمتشدقون»، فما المتفيهقون؟ قال: «المتكبرون».

ترجمہ

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے نزدیک تم میں سے (دنیا میں) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں، اور میرے نزدیک تم میں (دنیا میں) سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو باتونی، بلا احتیاط بولنے والے، زبان دراز اور”متفيهقون“ ہیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے ”ثرثارون“ (باتونی) اور ”متشدقون“ (بلااحتیاط بولنے والے) کو تو جان لیا لیکن یہ ”متفیھقون“ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ”تکبر کرنے والے“۔

تشریح

آپ ﷺ کے فرمان ”إن مِن“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، تم میں سب سے محبوب اور قیامت کے دن مجلس کے اعتبار سے قریب تر وہ شخص ہوگا جو خالق اور مخلوق دونوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے۔ آگے (إن من) میں بھی ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے۔ چنانچہ ”أبغضكم“ کا معنی ہوا تم میں سے سب سے ناپسندیدہ اور قیامت کے دن مرتبے کے لحاظ سے مجھ سے بعید تر وہ شخص ہوگا جو زیادہ تکلّف سے باتیں کرتا ہے، ”المتشدق“ وہ شخص جو لوگوں میں بڑائی اور عظمت کے لیے لمبی لمبی باتیں کرتا (ہانکتا) ہو اور جو اپنی گفتگو میں تکبّر کرے اور دوسروں پر اپنی فوقیت ظاہر کرے۔

تشریح: العربية

قوله صلى الله عليه وسلم : (إن من) للتبعيض، أحبكم وأقربكم مجلساً يوم القيامة أحسنكم خلقاً مع الخالق والمخلوق، و(إن من) للتبعيض أيضاً، أبغضكم أي: أكرهكم وأبعدكم مني منزلاً يوم القيامة كثير الكلام تكلفاً، والمتشدق المتطاول على الناس بكلامه تفاصحاً وتعظيماً، والمتكبر بكلامه ومظهراً للفضيلة على غيره.

  • حسن الخلق من أسباب محبة رسول الله -صلى الله عليه وسلم- والقرب منه يوم القيامة.
  • التحذير من التشدق بالكلام بإظهار الدعاوى والتفاخر والتفيهق في الكلام لإظهار البلاغة والفصاحة فإنها خصال المتكبرين المرائين.
  • أعلى درجات الجنة لمن حسن خلقه لأنه يشتمل على جميع خصال البر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید