ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن محمد بن مسلمة، قال: خطبت امرأة، فجعلتُ أتَخَبّأُ لها، حتى نظرتُ إليها في نَخْلٍ لها، فقيل له: أتفعلُ هذا وأنت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا ألقى الله في قلب امرئ خِطبة امرأة، فلا بأس أن ينظر إليها».
ترجمہ
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا، لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسولﷺ ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
تشریح
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کسی خاتون کو نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ کیا اور وہ اس کو چھپ چھپ کر دیکھنے لگے تو تابعی نے انھیں ایسا کرتے دیکھ لیا اورانھیں ان صحابی کا یہ فعل عجیب و غریب لگا تو صحابی رسول نے انھیں بتایا کہ ان کے اس عمل کی دلیل، نبی ﷺ کے حکم سے ماخوذ ہے کہ اگر کوئی مرد، کسی خاتون کو پیغام نکاح دینے کا خواہشمند ہو اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے دل میں اس خاتون سے نکاح کرنے کا میلان بھی پایا جاتا ہو تو اسےچاہیے کہ وہ اس کو دیکھ لے، چنانچہ اس حدیث میں منگیتر کو دیکھنے کے استحباب کی دلیل ملتی ہے، چاہے اس خاتون کو اس مرد کے دیکھنے کا علم بھی کیوں نہ ہو، یہاں تک کہ نکاح کرنے والا مجبوری میں چھپ کر اسے دیکھ سکتا ہے اور یہ اباحت محض حاجت وضرورت کی حد تک محدود ہے ۔
تشریح: العربية
دل الحديث على أن محمد بن مسلمة رضي الله عنه أراد خطبة امرأة فكان يتخبأ لها لينظر إليها، فرآه التابعي فاستغرب هذا الفعل منه، فأخبره بأن فعله هذا استند إلى أمر النبي صلى الله عليه وسلم بأن أحدًا إذا أراد أن يخطب امرأة وجعل الله في قلبه الميل إلى نكاحها فلينظر إليها، فدل على استحباب النظر الى المخطوبة ولو بغير علمها، حتى لو اضطر الخاطب إلى أن يتخبأ لها، وهذا إنما أُبيح للحاجة والضرورة.
- يباح النظر إلى من يريد أن يتزوجها وإن لم تأذن ولا وليها اكتفاء بإذن الشارع، لما في ذلك من المصالح، وهو إتمام النكاح على بينة.
- أن العلة في مشروعية النظر إلى المخطوبة, ليرى منها ما يدعوه إلى نكاحها.
- أنه يحرم النظر إلى النساء، لأنه هنا علق إباحة النظر على إرادة النكاح، فغيره يبقى على الأصل، وهو حرمة النظر إليهن.