حدیث

”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمد

عربی متن

عن أبي موسى رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا نِكَاحَ إِلّا بِوَليٍّ».

ترجمہ

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ عورت کی شادی صحیح ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ولی ہو، جو نکاح کرائے۔

فوائد

  • نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ولی کا ہونا شرط ہے۔اگر ولی کی عدم موجودگی میں نکاح ہو جائے یا عورت خود ہی شادی کر لے، تو اس کی شادی صحیح نہیں ہوگی۔
  • ولی سے مراد عورت کا سب سے قریبی رشتے والا مرد ہے۔ لہذا قریب کے ولی کے ہوتے ہوئے دور کا ولی عورت کى شادى نہیں کراسکتا۔
  • ولی بننے کے لیے مکلف ہونا، مرد ہونا، مصالحِ نکاح سے واقفیت کی عمر میں ہونا، ولی اور زیر ولایت عورت کا ہم مذہب ہونا شرط ہے۔ جس کے اندر یہ اوصاف نہیں پائے جائیں گے، وہ نکاح کے لیے ولی بننے کا اہل نہیں ہوگا۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ المرأةَ لا يَصِحُّ زواجُها إلا بولي يقوم بعقد النكاح.

  • الولي شرطٌ في صِحة النكاح، فإنْ حَصَلَ بلا ولي، أو زَوَّجَت المرأةُ نفسَها، لم يصح النكاح.
  • الولي هو أقرب الرجال إلى المرأة، فلا يزوجها وليٌّ بعيد مع وجود أقرب منه.
  • يُشترط في الولي: التكليف، والذكورية، والرشد في معرفة مصالح النكاح، واتفاق الدين بين الولي والمولى عليها، فمن لم يتَّصف بهذه الصفات فليس أهلًا للولاية في عقد النكاح.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید