حدیث

انہوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کردیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے (بےجا اصرار) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنادیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمر رضي الله عنه قال: قَسَمَ رسول الله صلى الله عليه وسلم قَسْمًا، فقلت: يا رسول الله لَغَيْرُ هؤلاء كانوا أحق به منهم؟ فقال: «إنهم خَيَّرُونِي أن يسألوني بالْفُحْشِ، أو يُبَخِّلُونِي ولست بِبَاخِلٍ».

ترجمہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے مال تقسیم کیا، تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ان کے علاوہ (جنہیں آپ نے عطا فرمایا) دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”انھوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کردیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے (بےجا اصرار) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنادیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں“۔

تشریح

آپ ﷺ نے آئے ہوئے مال کو کچھ لوگوں میں تقسیم کیا اور دوسروں کو چھوڑ دیا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کاش کہ آپ ان کو دیتے جنہیں آپ نے نہیں دیا ہے اس لیے کہ وہ زیادہ حقدار تھے؟ آپ ﷺ نے ان سے کہا انہوں نے اپنے کمزور ایمان کی وجہ سے مجھ سے مانگنے میں اصرار کیا اور اپنی خستہ حالی کی وجہ سے مجھ سے بے جا چیز کا سوال کیا یا پھر یہ کہ وہ بُخل کی طرف میری نسبت کریں۔ چانچہ آپ ﷺ نے عطا کرنے کو اختیار کیا، اس لیے کہ آپ کے اخلاق میں بُخل نہیں، بلکہ خاطر مدارات اور تالیفِ قلوب کے واسطے آپ نے انہیں دے دیا۔

تشریح: العربية

قسم النبي صلى الله عليه وسلم ما جاءه من مال على ناس وترك آخرين، فقال له عمر رضي الله عنه: ألا أعطيت هؤلاء الذين لم تعطهم لأنهم أحق من الذين أعطوا؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : إنهم ألحوا علي في السؤال لضعف إيمانهم، وألجؤوني بمقتضى حالهم إلى السؤال بالفحش أو نسبتي إلى البخل. فاختار صلى الله عليه وسلم أن يعطي إذ ليس البخل من خلقه ومداراةً وتأليفاً.

  • ما كان عليه صلى الله عليه وسلم من عظيم الخلق والصبر والحلم والإعراض عن الجاهلين.
  • ذم الإلحاح في السؤال.
  • للإمام أن يعطي المؤلفة قلوبهم من أموال الزكاة والخمس تأليفاً لقلوبهم حتى تتشرب حب الدين.
  • البخل ليس من شيم الأنبياء ولا الصالحين.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید