حدیث

ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے اختیار دے دیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن عباس، أن جَاريةً بِكْراً أتَتِ النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت «أنَّ أباها زَوَّجَها وهي كارهة، فَخَيَّرَهَا النبي صلى الله عليه وسلم ».

ترجمہ

ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے (نکاح کو باقی رکھنے یا فسخ کردینے کا) اختیار دے دیا۔

تشریح

یہ حدیث اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ایک نوجوان کم سن دوشیزہ جس کی بکارت ابھی کسی نکاحِ سابق سے زائل نہیں ہوئی تھی، نبی ﷺ کے پاس آئی اور بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی رضامندی واجازت کے بغیر کسی شخص سے کرنے کا ارادہ کیا ہے، تو نبی ﷺ نے اسے اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس شوہر کے عقد میں رہے یا اس نکاح کو فسخ کرتے ہوئے اس کو رد کردے، کیوں کہ شریعت میں اس (لڑکی) کی اجازت کا اعتبار کیا گیا ہے، لہذا ولی اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس کی شادی نہیں کراسکتا۔ اور اگر وہ باکرہ ہو اور عقل مند و بالغہ ہو تو اسے ولی کی بات ماننے یا انکار کرنے کا حق حاصل ہے۔ باکرہ اور بالغہ لڑکی کی رائے کے اعتبار کرنے اور اسے مجبور نہ کرنے کے قول کو سعودی عرب کی مستقل کمیٹی برائے افتاء نے اختیار کیا ہے۔

تشریح: العربية

أفاد هذا الحديث أن شابة صغيرة السن لم تزل بكارتها بنكاح سابق، جاءت فأخبرت النبي -عليه الصلاة والسلام- أن أباها أراد أن يزوجها من رجل بغير رضاها ولا إذنها، فخيرها النبي -عليه الصلاة والسلام- بين أن تبقى تحت ذمة هذا الزوج إنفاذًا لتزويج أبيها، أو تفسخ هذا النكاح وترده؛ وذلك لأن إذنها معتبر في الشرع، فلا يزوجها الولي إلا بإذنها ورضاها، ولو كانت بكراً وهي عاقلة بالغة، فلها أن تختار أو ترفض. والقول باعتبار رأي البكر البالغة، وعدم جواز إجبارها اختيار اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء بالمملكة العربية السعودية.

  • المرأة التي تعرف مصالح النكاح لا تجبر على النكاح، لا من أبيها، ولا من غيره من الأولياء، وأنَّ أمرها بيدها، وإن كانت بكرًا.
  • أنَّ المرأة لا تجبر على البقاء مع زوج لا ترضاه، وأنَّه يجب تلبية طلبها إذا طلبت فسخ نكاحها.
  • أنَّ النكاح إذا لم يعقد على الوجه الشرعي، فإنَّه يجب فسخه، وأنَّ الذي يفسخه هو الحاكم الشرعي.
  • يجوز للإنسان أن يشكو والده عند القاضي في الحقوق الخاصة إذا ظلمه.
  • أن الشريعة الإسلامية تأخذ للمظلوم حقه، ولو كان على أقرب الناس إليه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید