حدیث

کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنے جیسی عورت ہی سے شادی کرے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا يَنْكِحُ الزَّاني المَجْلود إلا مثْلَه».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنے جیسی عورت ہی سے شادی کرے۔

تشریح

اس حدیث میں باطل و ناجائز نکاحوں کی ایک قسم بیان کی گئی ہے اور یہ وہ نکاح ہے جس میں زانی، اپنی زناکاری سے تائب نہ ہو اور اس کا زناکار ہونا ثابت ہو تو ایسے شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی پاکباز مسلمان خاتون سے نکاح کرے کیونکہ اس سے نکاح کے لیے اسی جیسی زناکار خاتون ہی آگے آسکتی ہے اور جن کی حالت ایک دوسرے سے مناسبت رکھتی ہے اور یہ حکم اس وقت جاری ہوگا جب وہ اس عظیم گناہ سے توبہ نہ کرے۔ نیز یہ کہ بدکاری کی مرتکب اس زناکار خاتون سے بھی کسی مسلمان کا نکاح کرنا جائز نہیں جو زناکاری سے تائب نہ ہوئی ہو۔ زناکار کو کوڑے کھانے والے سے متصف کرنا، غلبہ صفت کی بناء پر ہے کیونکہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ جس کا زناکار ہونا ثابت ہوجائے تو اس کو کوڑے لگائے جاتے ہیں، ورنہ اس حکم میں وہ زناکار بھی شامل ہے جس کو کوڑے نہیں لگائے گئے ہوں۔اگر ان دونوں حالات میں نکاح ہوجائے تو ایسا نکاح باطل ہوگا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے کسی اور مرد سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا“۔

تشریح: العربية

الحديث فيه بيان لنوع من أنواع الأنكحة الباطلة، وهو نكاح الزاني الذي لم يتب من الزنى؛ وثبت زناه لا يجوز له أن يتزوج مسلمة عفيفة، إذ لا يُقْدِم على نكاحه من النساء إلاَّ أنثى زانيةٌ مثله، يُناسب حاله حالها، وهذا الحكم إذا لم يتب من هذا الذنب العظيم، كما أن الزانية التي ارتكبت هذه الفاحشة لا يجوز للمسلم أن يتزوجها وهي غير تائبة من الزنى، ووصف الزاني بالمجلود وصف أغلبي؛ لأن الغالب أن من ثبت زناه جلد، وإلا فالحكم يشمل الزاني الذي لم يجلد، فإن حصل عقد في الحالين فهو عقد باطل، وقال تعالى : (الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك).

  • يحرم على الرجل أن يتزوج بمن ظهر منها الزنا, كما يحرم على المرأة أن تُزوج بمن ظهر منه الزنا.
  • إن حصل عقد في الحالين المتقدمين فهو عقد باطل.
  • إذا تاب الزاني أو تابت الزانية صح نكاحهما, فالحكم هنا مقيد بعدم التوبة.
  • حماية الشريعة للأخلاق؛ لأن الزاني لا يبالي أن تزني امرأته؛ لأنه هو يزني بنساء الناس, والواقع في الذنب لا ينكره على غيره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید