حدیث

نہیں، یہاں تک کہ دوسرا یعنی شوہرِ ثانی اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها ، قالت: طلَّق رجل امرأَته ثلاثا، فَتَزوَّجها رجل، ثم طلَّقها قَبْل أن يَدْخُل بها، فَأَراد زوجها الأول أن يتزوَّجها، فسُئِل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فقال: «لا، حتى يَذُوَق الآخرُ مِنْ عُسَيْلَتِها ما ذَاقَ الأوَّل».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں، تو اس سے ایک دوسرے آدمی نے شادی کرلی پھر اس نے صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، اب اس کے پہلے خاوند نے اس سے شادی کا ارادہ کیا اور رسول ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا، نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دوسرا یعنی شوہرِ ثانی اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا۔

تشریح

رفاعہ قرظی کی بیوی اپنی حالت کی شکایت لے کر نبی ﷺ کے پاس آئیں، انہوں نے بتایا کہ وہ رفاعہ کی زوجیت میں تھیں کہ انہوں نے انہیں آخری طلاق طلاقِ بتہ دے دیا، یعنی تینوں طلاق دے دی، اور انہوں نے عبدالرحمان بن زَبِیر سے شادی کرلی، انہوں نے انہیں چھوا بھی نہیں اور طلاق دے دی، اب ان کے پہلے شوہر نے ان سے شادی کرنی چاہی تو انہوں نے اس کے بارے میں نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا، آپ ﷺ نے منع فرمایا اور اس سے روک دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ رفاعہ کی جانب رجوع کے جواز کے لیے ضروری تھا کہ دوسرے شوہر نے ان سے وطی کیا ہو۔

تشریح: العربية

جاءت امرأة رفاعة القرظي شاكية حالها إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، فأخبرته أنها كانت زوجًا لرفاعة، فبتَّ طلاقها بالتطليقة الأخيرة، وهي الثالثة من طلقاتها، وأنها تزوجت بعده عبد الرحمن بن الزَّبِير -بفتح الزاي- فلم يستطع أن يمسها، فطلقها، فَأَراد زوجها الأول أن يتزوَّجها، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فمنعه ونهى عنه، وأخبرها بأنه لابد لحل رجوعها إلى رفاعة من أن يطأها زوجها الأخير.

  • المطلقة ثلاثًا لا يحل لمطلِّقها أن يرجعها حتى تنكح زوجًا غيره، ويجامِعها الزوج الثاني، ثم يطلقها بغير نية التحليل، وتعتد منه، قال -تعالى-: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا}،[البقرة: 230].
  • لابُدَّ أنْ يكون زواج الثاني زواج رغبةٍ، لم يقصد به التحليل، أما إنْ قصد الثاني بزواجه التحليل للأوَّل، فإنَّ العقد غير صحيح، بل هو باطلٌ، ونكاحه ووطؤه محرَّم، ولم تحل للزوج الأول,كما دلت عليه الأحاديث الأخرى.
  • لابُدَّ لصحة حِلِّ المطلقة للزوج الأول، أن يطأها الزوج الثاني في عقد صحيح, وذلك بإيلاج الحشفة -أو قدرها من مجبوبٍ- في فرج المرأة المطلَّقة، مع انتشار وإن لم ينزل، فلا يكفي مجرَّد العقد، ولا الخلوة، ولا المباشرة دون الفرج، ولا كون العقد الثاني باطلًا أو فاسدًا، بل لابُدَّ أنْ يكون بعقدٍ صحيح.
  • الشريعة الإسلامية أجمل الشرائع، وأقوم بمصالح العباد، فله أن يعاف زوجته، فإن تاقت نفسه إليها وجد السبيل إلى ردها، فإذا طلَّقها الثالثة لم يبق له عليها سبيل، إلاَّ بعد نكاح زوجٍ ثانٍ، نكاح رغبة، فإباحتها بعد الزوج الآخر من أعظم النعم.
  • استعمال الكناية عن الشيء الذي يستحيا من ذكره بما يدل عليه, لقولها: قبل أن يدخل بها, والمراد بالدخول الجماع.
  • إذا تصرف الإنسان تصرفًا على خلاف الشرع وهو يعتقده صحيحا, فلا عبرة بتصرفه, فهذه المرأة لما طلقت ظنت أن ذلك يبيحها للزوج الأول, فبين النبي -صلى الله عليه وسلم- أنها لا تحل له حتى يدخل بها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید