ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن الضحاك بن فيروز، عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله، إني أسلمت وتحتي أختان؟، قال: «طَلِّق أيتَهُما شِئتَ».
ترجمہ
ضحاک بن فیروز رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو۔
تشریح
اہلِ یمن سے تعلق رکھنے والے صحابی رسول ﷺ ، فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو اس وقت ان کی دو بیویاں تھیں جوسگی بہنیں تھیں اور اہل جاہلیت کے ہاں دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنے کا رواج تھا، وہ اس کوکوئی گناہ نہیں سمجھتے تھے،چنانچہ نبی ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کریں تاکہ ان کے ہاں ایک بیوی رہے اور وہ دوسری کو طلاق دے دیں؛کیونکہ دین اسلام میں دو سگی بہنوں کو نکاح میں ایک ساتھ رکھنا، جائز نہیں ہے۔
تشریح: العربية
فيروز الديلمي رضي الله عنه صحابي من أهل اليمن أسلم وعنده زوجتان، هما أختان، وقد كان أهل الجاهلية يتزوجون الأختين معا لا يرون بذلك بأساً، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يختار منهما واحدة، لتبقى له زوجة، ويطلق الأخرى؛ لأنَّه لا يجوز الجمع بين الأختين في الإسلام.
- اتَّفق المسلمون على أنه لا يُجمع بين الأختين بعقد نكاح، سواء كانت الأخوَّة بنسب أو رضاع، حُرَّتَيْنِ أو أمَتَيْن، أوْ إحداهما أَمَة، قبل الدخول أو بعده.
- إذا طلق إحداهما فإنه اختيار منه للباقية.
- اعتبار أنكحة الكفار من أهل الكتاب وغيرهم، وأنَّها صحيحة، ولو أسلموا عليها، وأنَّها كأنكحة المسلمين، فيما يجب فيها من أحكام.
- أنَّ المرأة لا تخرج عن عصمة الزوج بعد الإِسلام إلاَّ بطلاق ونحوه، فالنكاح يبقى بعد الإِسلام بلا تجديد عقد.