ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن عمر، أن غَيْلَانَ بن سَلَمَةَ الثقفي أَسْلَمَ وله عشر نِسْوَةٍ في الجاهلية، فَأَسْلَمْنَ معه، « فَأَمَرَهُ النبي صلى الله عليه وسلم أن يَتَخَيَّرَ أربعا مِنْهُنَّ».
ترجمہ
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ثقفی نے اسلام قبول کیا اور جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کر لیں۔
تشریح
اس حدیث میں زمانۂ جاہلیت میں پائے جانے والے نکاح کے طور طریقوں میں سے ایک کی وضاحت کی گئی ہے کہ بعضوں کے نکاح میں بیک وقت عورتوں کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی اور وہ متعین تعداد کے پابند نہ تھے، چنانچہ یہ صحابی تشریف لائے اور وہ اسلام لاچکے تھے اور ان کی دس بیویاں تھیں اور شوہر کے ساتھ وہ سب بھی مسلمان ہوگئیں، چنانچہ نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے کسی چار کو اپنالیں اور باقی کو طلاق دے دیں کیونکہ اسلامی شریعت نے مرد کے نکاح میں صرف چار خواتین کو رکھنے کی حد قائم کردی ہے اور تمام مسلمانوں کا اس امر پر اجماع ہے۔
تشریح: العربية
الحديث يبين صورة من صور الأنكحة التي كانت موجودة في الجاهلية، حيث كان أحدهم يجمع بين أعداد كبيرة من النساء، ولا يتقيدون بعدد معين، فجاء هذا الصحابي وقد أسلم وكان له عشر نسوة فأسلمن معه جميعًا، فأمره النبي -عليه الصلاة والسلام- أن يختار منهن أربعًا ويفارق البواقي؛ لأن الشرع حدد الجمع في النكاح بأربع فقط، وهو إجماع من المسلمين.
- أنَّ نهاية ما يباح للحر جمعه من الزوجات هو أربع زوجات.
- لو أسلم رجل في عصمته أكثر من أربع زوجات، فإنَّه يؤمر أن يختار منهن أربعًا، ويطلق الباقيات.
- اعتبار أنكحة الكفار، وأنَّها تبقى على حالها بلا تفتيش عن صفة ما عقدت عليه في كفرهم، هذا إذا كانت أنكحتهم حال إسلامهم، أو حال ترافعهم إلينا حلالًا، أما إذا كانت حال الترافع، أو إسلامهم مما لا يجوز ابتداؤها، كذات مَحرم أو معتدة لم تَنْقض عدَّتها: فُرِّق بينهما؛ لأنَّ ما منع ابتداء العقد منع استدامته.
- الدليل على اعتبار أنكحتهم عند الإِسلام أو الترافع بشرطه، هو أنَّه لم يؤمر بتجديد العقد لمن اختار الدخول في الإِسلام، وأنَّه أمر أن يطلق التي لم يختر منهنَّ، فهذا دليل على اعتبار العقد.