حدیث

میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسى پر اس کى بیوی کے کیا حقوق ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو یا یوں فرمایا کہ جب تم کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو اور اس سے جدائى اختیار نہ کرو مگر گھر ہی کے اندر"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حسنرواه أبو داود وابن ماجه وأحمد

عربی متن

عَنْ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟، قَالَ: «أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، أَوِ اكْتَسَبْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ»

ترجمہ

معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسى پر اس کى بیوی کے کیا حقوق ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم پہنو یا یوں فرمایا کہ جب تم کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو اور اس سے جدائى اختیار نہ کرو مگر گھر ہی کے اندر"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ شوہر پر بیوی کے کیا حقوق ہیں، تو آپ نے جواب میں چند چیزوں کا ذکر کیا۔ جیسے: 1- اسے چھوڑ کر خود نہ کھاؤ۔ جب جب کھاؤ، اسے بھی کھلاؤ۔ 2- اسے چھوڑ کر خود نہ پہنو۔ جب خود پہنو، کماؤ اور استطاعت رکھو، تو اسے بھی پہناؤ۔ 3- بلاسبب اور بلا ضرورت نہ مارو۔ تادیب کے لیے یا کوئی فریضہ ترک کرنے پر مارنے کی ضرورت پڑ جائے تو اجازت ہے، لیکن وہ بھی اذیت ناک نہ ہو اور چہرے پر نہ مارا جائے۔ کیوں کہ چہرہ جسم کا عظیم ترین، سب سے زیادہ دِکھنے والا اور کئی معزز اور نازک اعضا پر مشتمل حصہ ہے۔ 4۔ گالی گلوج مت کرو۔ یہ مت کہو کہ اللہ تیرے چہرے کو بد نما بنا دے۔ کوئی ایسی بد دعا نہ کرو، جس میں چہرے یا جسم کے کسی حصے کو بدنما بنانے کی بات ہو۔ کیوں کہ انسان کے جسم اور چہرے کو اللہ نے بنایا ہے اور بہتر شکل و صورت عطا کی ہے جبکہ بناوٹ کی مذمت بنانے والے (خالق) کی جانب لوٹ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ 5- اس سے علاحدگی اختیار کرنا ضروری ہو، تو بس بستر الگ کر دو۔ اسے چھوڑ کر کسی دوسرے گھر میں مت جاؤ اور نہ اسے دوسرے گھر میں بھیجو۔ کیوں کہ میاں بیوی کے درمیان ایسی لا تعلقی عام طور پر ہو جایا کرتی ہے۔

فوائد

  • صحابہ کی کوشش یہ جاننے کی ہوتی تھی کہ ان پر دوسروں کے کیا حقوق ہیں اور دوسروں پر ان کے کیا حقوق ہیں۔
  • شوہر کی ذمے داری ہے کہ وہ بیوی کے نان و نفقے، کپڑے اور مکان کا انتظام کرے۔
  • معنوی اور حسی دونوں طرح سے بد صورت بنانا منع ہے۔
  • کسی سے یہ کہنا منع ہے کہ تم ایک گھٹیا قبیلے یا گھٹیا خاندان سے تعلق رکھتے ہو یا اس جیسی کوئی اور بات۔
تشریح: العربية

سُئِلَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم ما حقُّ الزوجة على زوجها؟ فذَكر النبيُّ صلى الله عليه وسلم أمورًا، ومنها: أولًا: لا تَخُصّ نفسَك بالطعام دونها؛ بل تطعمها كلما أكلتَ وطعمتَ. ثانيًا: لا تخص نفسك بالكسوة واللباس، بل تكسوها إذا اكتسيتَ، وإذا اكتسبت واستطعت. ثالثًا: لا تُضرب إلا لسبب وحاجة، وإذا احتاج إلى ضربها للتأديب أو لتركها بعض الفرائض فيكون ضربًا غير مُبَرِّح؛ ولا يُضرب الوجه؛ لأن الوجه أعظم الأعضاء وأظهرها ومشتمل على أجزاء شريفة وأعضاء لطيفة. رابعًا: لا تَشْتُم أو تقل: قَبَّحَ اللهُ وجهَك؛ فلا تنسبه ولا شيئًا من بدنها إلى القُبْح الذي هو ضد الحُسْن؛ لأن الله تعالى هو صَوَّرَ وجهَ الإنسان وجِسْمَه، وأحسن كل شيء خلقه، وذَمُّ الخِلْقة يعود إلى مَذَمَّة الخَالق والعياذ بالله. خامسًا: لا تَهْجُر إلا في المَضْجَع، ولا تَتَحَوَّل عنها، ولا تُحَوِّلها إلى دار أخرى؛ ولعل ذلك فيما يعتاد وقوعه من الهجر بين الزوج والزوجة.

  • حرص الصحابة على معرفة الحقوق التي عليهم أداؤها لغيرهم، ومعرفة الحقوق التي لهم.
  • وجوب النفقة والكسوة والسكنى للمرأة على زوجها.
  • النهي عن التقبيح المعنوي والحسي.
  • من التقبيح المنهي عنه أن يقول: أنت من قبيلةٍ رديئة، أو من عائلة سيئة، أو ما أشبه ذلك.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید