حدیث

میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (ایام رضاعت یاحمل میں جماع )کرنے سے لوگوں کو منع کردوں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جُذَامَةَ بنت وهب، أخت عكاشة، قالت: حَضَرْتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، في أناس وهو يقول: «لقد هَمَمْتُ أن أنهى عن الْغِيلَةِ، فَنَظَرْتُ في الروم وفارس، فإذا هم يُغِيلُونَ أولادهم، فلا يضر أولادهم ذلك شيئا»، ثم سألوه عن الْعَزْلِ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ذلك الْوَأْدُ الخفي»، زاد عبيد الله في حديثه: عن المقرئ، وهي: {وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ}.

ترجمہ

عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن ، جُذامہ بنت وہب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں کچھ لوگوں کے ہمراہ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (ایامِ رضاعت یاحمل میں جماع )کرنے سےلوگوں کو منع کردوں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔ پھر صحابہ کرام نے آپ ﷺ سے ”عزل“ کے متعلق پوچھا ، آپ ﷺ نے فرمایا:وہ تو خفیہ طور پر زندہ گاڑ دینا ہے۔ عبیداللہ نے مقری سے اپنی روایت میں ﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ﴾ ”اور جب زنده گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا“ کا اضافہ کیا ہے۔

تشریح

اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ نے شوہر کو زمانۂ رضاعت میں بیوی کے قریب جانے اور اس سے ہمبستری کرنے سے منع کردینے کا ارادہ فرمایا کیونکہ عرب میں یہ بات مشہور تھی کہ پیدا ہونے والی اولاد کو اس کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے، پھر آپ ﷺ نے اس ارادہ کو اُس وقت ترک کردیا جب فارس اور روم جیسے بعض لوگوں میں اس کا نقصاندہ نہ ہونا، آپ ﷺ کے نزدیک ثابت ہوگیا۔ پھر آپ ﷺ سے اُس شوہر کے بارے میں دریافت کیا گیا جو (انزال کے وقت) اپنی منی کو بیوی کی شرمگاہ کے باہر خارج کردیتا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے اس عمل کو ان اہلِ جاہلیت کے عمل سے تشبیہ دی جو اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کیا کرتے تھے اور دونوں اعمال میں فرق یہ ہے کہ پہلا عمل خفیہ طور پر اور دوسرا علی الاعلان کیا جاتا ہے۔

تشریح: العربية

أفاد الحديث أنَّ النبي صلى الله عليه وسلم أراد أن ينهى الزوج عن قرب زوجته وجماعها أثناء الرضاع؛ لما اشتهر عند العرب أنه يضرّ بالولد، ثم رجع عن ذلك حين تحقق عنده عدم الضرر في بعض الناس كفارس والروم، ثم سئل عن الزوج الذي يُنزل منيَّه خارج الفرج فشبَّه هذا العمل بعمل أهل الجاهلية الذين كانوا يدفنون بناتهم وهنَّ أحياء، والفرق بين العملين أنّ الأول يُعمل خفية، والثاني علانية.

  • أنّ النَّبيّ -صلى الله عليه وسلم- همَّ أن ينهى عن الغيلة، بناءً على خبر أطباء زمنه، وكونه مستكرهًا عند العرب، لكنه لم يفعل لا نتفاء الضرر في فعله عن الطفل بالتجربة والواقع.
  • أنَّ العلوم الطبيعية من طب ونحوه تُدْرَكُ بالتجارب وتُحصَّل بالنتائج.
  • أنَّ أخذ العلوم غير الشرعية من الأمم الكافرة لا يعد ذلك تقليدًا لهم، وركونًا إليهم، وتشبهًا بهم؛ فإنَّ هذا العلم من سنن الله.
  • أنَّ حصول الأشياء من خيرٍ وشرٍّ، منوطةٌ بأسبابها التي رتَّبها الله -تعالى- عليها.
  • تحريم الوأد، وهو عادةٌ جاهلية، ومعناه: دفن بناتهم وهنَّ أحياء.
  • أنّ هذا الدين الإسلامي مداره على منع الضرر، وجلب النفع.
  • جواز السؤال عما يُستحيا منه للتفقه في الدين.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید