حدیث

یہودی کہتے ہیں کہ عزل کرنا چھوٹے انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” یہودی غلط کہتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنا چاہے گا تو ، تو اسے ٹال نہیں سکتا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري، أن رجلًا قال: يا رسول الله، إن لي جارية وأنا أَعْزِلُ عنها وأنا أكره أن تحمل، وأنا أريد ما يريد الرجال، وإن اليهود تحدث أن العَزْلَ المَوْؤُودَةُ الصغرى قال: «كَذَبَتْ يَهُودُ لو أراد الله أَنْ يَخْلُقَهُ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَصْرِفَهُ».

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میری ایک لونڈی ہے اور میں اس سے عزل کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں ہے اور میں وہی چاہتا ہوں جو مرد چاہتے ہیں۔ مگر یہودی کہتے ہیں کہ عزل کرنا چھوٹے انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہودی غلط کہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنا چاہے گا تو، تو اسے ٹال نہیں سکتا۔

تشریح

اس حدیث میں یہود کے اس خیال کا رد کیا جا رہا ہے کہ عزل کی وجہ سے سرے سے حمل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور انہوں نے اس کو زندہ درگور کر کے قطع نسل کے درجہ میں رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کوجھوٹا قراردیا اور یہ بتایا کہ اگر اللہ کسی کی تخلیق چاہتا ہے تو کوئی بھی اس حمل کو روک نہیں سکتا۔ اور اگر اللہ تخلیق کا ارادہ نہیں رکھتا تو وہ حقیقتاً اس کو درگور نہیں کررہا۔ اس لیے صحابی کو اپنی لونڈی سے عزل کی اجازت دی اور یہود کے دعویٰ کا رد بھی کیا۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث إبطال لما زعمته اليهود من أنَّ العزل لا يُتصور معه الحمل أصلاً، وجعلوه بمنزلة قطع النسل بالوأد، فأكذبهم النبي صلى الله عليه وسلم ، وأخبر أنَّه لا يُمنع الحمل إذا شاء الله خلقه، وإذا لم يُرد خلقه، لم تكن وأدًا حقيقة، ولهذا أجاز لهذا الصحابي العزل عن جاريته وَرَدَّ دعوى اليهود.

  • جواز العزل.
  • أنَّ إرادة الله -تعالى- الكونية نافذة، فلا يردُّها عملٌ وقايةً منها ولا حذر.
  • الكناية عن الشيء الذي يستحيا منه إذا لم تدع الحاجة إلى التصريح.
  • يجوز للإنسان أن يكره ما يكون عليه فيه ضرر مالي.
  • اعتبار أقوال من عنده علم وإن كان كافراً.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید