حدیث

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کا مہر کتنا ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اپنی بیویوں کے لیے آپ ﷺ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم : كم كان صَداقُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قالت: «كان صَدَاقُهُ لأزواجه ثِنْتَيْ عشرة أُوقِيَّةً ونَشَّاً»، قالت: «أتدري ما النَّشُّ؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أُوقِيَّةٍ، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صَدَاقُ رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه».

ترجمہ

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتےہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ اُمُّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ ﷺکی بیویوں کا مہر کتنا ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: اپنی بیویوں کے لیے آپ کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نَش تھا۔ پھر انہوں نے پوچھا: جانتے ہو نش کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا: آدھا اوقیہ، بایں ہمہ یہ کل 500 درہم بنتے ہیں اور یہی اپنی بیویوں کے لیے رسول اللہ ﷺکا مہر تھا۔

تشریح

حدیث کا موضوع حق مہر میں تخفیف کا استحباب ہے۔ حق مہر اگرچہ مشروع ہے لیکن بہترین حق مہر وہی ہے جس کی ادائیگی آسان ہو اور وہ عورتیں بھی بہترین ہیں جو تھوڑے حق مہر پر رضا مند ہو جاتی ہیں۔ اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کو زیادہ سے زیادہ ساڑھے بارہ اوقیہ حق مہر دیا ہے۔ رسول اللہﷺ عادات و عبادات میں کامل نمونہ ہیں۔ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس حساب سے یہ ساڑھے پانچ سو درہم بنتے ہیں۔ یہ آج کے لوگوں کے بالکل برعکس ہے جو لمبے چوڑے حق مہر باندھتے ہیں اور عورت نیز اس کے ورثاء کو جو مال ودولت دیتے ہیں اس پر فخر کرتے ہیں، خواہ خاوند غریب ہو یا امیر وہ یہی چاہتا ہے کہ اس معاملے میں وہ کسی سے پیچھے نہ رہے اور یہی شادی میں تاخیر کا سبب بن جاتا ہے۔

تشریح: العربية

موضوع الحديث استحباب تخفيف الصداق، وأنَّ ذلك هو المشروع؛ فخير الصداق أيسره، وخير النِّساء أيسرهن مؤنة، وفيه أن صداق النبي صلى الله عليه وسلم لزوجاته غالبًا اثنتا عشرة أوقية ونصف الأوقية، وهو صلى الله عليه وسلم القدوة الكاملة في العادات والعبادات، والأوقية أربعون درهمًا، فيكون خمسمائة درهم، وهذا خلاف ما يفعله الناس اليوم من المغالاة في المهور، والتفاخر بما يدفعون إلى المرأة وأوليائها، سواء أكان الزوج غنيًا أم فقيرًا، فهو يريد أن لا ينقص عن غيره في هذا المجال، مما أدى لتأخير الزواج.

  • الحديث فيه أصل مشروعية الصداق في النكاح، وأنه لابد منه، سواء سمِّي في العقد أو لم يسم، فإن سمي فهو على ما اتَّفق عليه الزوجان، وإن لم يسم فللزوجة مهر المثل.
  • الصداق يُعد عطية وهدية، يُكرِمُ بها الرجل زوجته عند دخوله عليها، ومقابلته لها، جبرًا لخاطرها، وإشعارًا بقدْرها، وليس هو مجرَّد عوض.
  • استحباب تخفيف المهور إقتداءً بالنبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • حرص السلف على العلم, وذلك ظاهر في سؤال أبي سلمة لعائشة -رضي الله عنها-.
  • -جواز مخاطبة الرجل المرأة إذا كان لمصلحة؛ لأنه خاطب عائشة وسألها.
  • أن صوت المرأة ليس بعورة.
  • أنه ينبغي للمفتي إذا تكلم مع المستفتي بشيء يظنه جاهلا به أن يبينه.
  • أن من طرق التعليم السؤال لأنها سألته: أتدري ما النش؟

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید