ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو، وہ قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا"۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں کہ جس شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور ان کے درمیان طاقت بھر انصاف نہ کرے، مثلا اخراجات، رہنے کے لیے گھر کی فراہمی، لباس اور رات گزارنے میں برابری نہ کرے، قیامت کے دن اس کی سزا یہ ہوگی کہ اس کے جسم کا آدھا حصہ ایک جانب جھکا ہوا ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اپنے معاملات میں ایک جانب جھکا ہوا تھا۔
فوائد
- دو یا دو سے زائد بیوی ہونے کی صورت میں ان کے درمیان انصاف کے ساتھ (حقوق) تقسیم کرنا شوہر پر واجب ہے۔ اس کے لیے یہ حرام ہے کہ دوسری بیویوں کو چھوڑ کر کسی ایک کی طرف مائل ہوجائے، خواہ نان ونفقہ کے معاملہ میں ہو، شب گزاری میں ہو یا حسن معاشرت وغیرہ میں۔
- باری اور اس طرح کی دوسری چیزیں جو انسان کے بس میں ہیں، ان کی تقسیم برابر کرنا ضروری ہے۔ رہی بات محبت اور قلبی میلان وغیرہ ایسی چیزوں کی، جو انسان کے بس میں نہيں ہوا کرتیں، تو وہ اس حدیث میں داخل نہيں ہیں۔ اسی طرح کی چیزوں کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے: "تم چاہتے ہوئے بھی عورتوں کے درمیان انصاف نہیں کر سکتے۔" [سورہ نساء : 129]
- انسان کو اسی جنس کا بدلہ ملے گا جس جنس کا اس کا عمل ہوگا۔ چنانچہ جس طرح مرد دنیا میں ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل ہوگیا تھا، اسی طرح قیامت کے دن جب حاضر ہوگا تو اس کا جسم ایک جانب جھکا ہوا ہوگا۔
- بندوں کے حقوق کی اہمیت۔ بندوں کے حقوق معاف نہيں ہوں گے۔ کیوں کہ بندے اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوشاں رہا کرتے ہيں۔
- جب مرد کو یہ خدشہ ہوکہ وہ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کر پائے گا تو اس کے لیے مستحب ہے کہ ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے تاکہ دین میں کوتاہی کا مرتکب نہ ہو۔ اللہ تعالی کافرمان ہے: "لیکن اگر تمہیں برابری نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے"۔ [النساء: ۳]
تشریح: العربية
يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن كانت له أكثر من زوجة، فلم يَعْدِل بين زوجاته العدلَ المُستطاع، من مساواة بينهن في الإنفاق والمسكن والملبس والمَبِيْت، بأنَّ عقابه يوم القيامة أن يكون نصفُ جسدِه مائلًا، وميلانه عقوبة له على جوره، كما مَالَ في معاملته.
- وجوب القَسْمِ على الرجل بين زوجتيه أو زوجاته، ويَحْرُم عليه المَيْلُ إلى إحداهنَّ عن الأخرى، فيما يقدر عليه من النفقة، والمبيت، وحسن المقابلة، ونحو ذلك.
- التسوية في القِسْمَة ونحو ذلك، فيما يملك الإنسان، أما ما لا يملكه كالمحبة والمَيْل القلبي فإنه لا يدخل في الحديث، وهو المقصود في قوله تعالى: {ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم} [النساء: 129].
- الجزاء يكون من جنس العمل، فإنَّ الرجل لما مال في الدنيا من زوجةٍ إلى أخرى، جاء يوم القيامة مائلًا أحدُ شِقَّيْه عن الآخر.
- تعظيم حقوق العباد، وأنه لا يُسامَح فيها؛ لأنها مبنيةٌ على الشُّحِّ والتَّقَصِّي.
- استحباب الاقتصار على زوجةٍ واحدةٍ، إذا خاف الرجل أن لا يعدل بين زوجاته؛ لئلا يقع في التقصير في الدين؛ قال تعالى: {فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً} [النساء: 3].