حدیث

رسول اللہ ﷺ ہم ازواجِ مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ایسا دن کم ہی گزرتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں اور بجز جماع کے ہر ایک سے قریب ہوئے بغیر اپنی اس بیوی کے پاس چلے جاتے اور شب باشی کرتے ہوں، جس کی باری ہوتی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عروة قال: قالت عائشة رضي الله عنها : «يا ابن أختي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يُفضِّل بعضنا على بعض في القَسْم، مِنْ مُكْثِه عندنا، وكان قَلَّ يومٌ إلا وهو يَطُوف عليْنا جميعًا، فَيَدْنُو مِنْ كلِّ امرأة مِنْ غَيْر مَسِيسٍ، حتى يَبْلُغ إلى التي هو يومُها فَيَبِيتُ عندها» ولقد قالت سَوْدة بنت زَمْعَة: حِينَ أسَنَّتْ وفَرِقَتْ أنْ يُفارِقَها رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا رسول الله، يَوْمِي لعائشة، فَقَبِل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم منها، قالت: نَقول في ذلك أَنْزَل الله تعالى وفي أَشْبَاهِها أُراه قال: {وإن امرأة خافت من بعلها نشوزًا} [النساء: 128].

ترجمہ

عروہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”میرے بھانجے! رسول اللہ ﷺ ہم ازواجِ مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ایسا دن کم ہی گزرتا تھا کہ آپ ﷺ ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں اور بجز جماع کے ہر ایک سے قریب ہوئے بغیر اپنی اس بیوی کے پاس چلے جاتے اور شب باشی کرتے ہوں، جس کی باری ہوتی۔“، اور کہتی ہیں کہ جب سودہ بنت زمعہ (رضی اللہ عنہا) عمر رسیدہ ہو گئیں اور انھیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ انھیں الگ کر دیں گے، تو کہنے لگیں :اے اللہ کے رسول ! میری باری عائشہ کے لیے رہے گی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ بات قبول فرما لی۔ عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں: ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلے میں یا اسی جیسی اور چیزوں کے سلسلے میں آیتِ کریمہ: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا﴾ ”اور اگر عورت کو اپنے شوہر کی بد مزاجی کا خوف ہو“ (سورۃ النساء : ۱۲۸) نازل فرمائی۔

تشریح

اس حدیث میں آپ ﷺ کا اپنی بیویوں کے مابین باری سے متعلق عدل و انصاف کا بیان ہے، اس طرح کہ کسی کو کسی پر فوقیت نہیں دیتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تقریبا ہر روز آپ اپنی تمام بیویوں کے پاس جاتے تھے اور ان کے ساتھ حسنِ معاشرت اور ان کے دلوں کی طمانیت کے لیے جماع کے سوا ہر طرح کی ملاطفت و مداعبت فرماتے تھے، پھر جس کے یہاں رات گزارنی ہوتی وہاں جاتے۔ جب سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں، تو انھیں خوف دامن گیر ہوا کہ نبی ﷺ انھیں الگ کر دیں گے۔ انھوں نے آپ کی زوجیت میں باقی رہنا اور اس شرف و فضل سے سرفراز رہنا چاہا اور یہ شرف و فضل تمام مومنین کی ماں اور سید المرسلین ﷺ کی بیوی ہونا ہے، اس لیے انھوں نے کہا: میں اپنی باری عائشہ کو ہبہ کرتی ہوں اور نبی ﷺ نے اسے قبول فرمایا۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ ”اور اگر عورت کو اپنے شوہر کی بد مزاجی اور بے پروائی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیں“ ذکر کیا کہ یہ اسی حالت یا اسی طرح کی چیزوں کے لیے نازل ہوئی۔

تشریح: العربية

هذا الحديث فيه بيان عدله صلى الله عليه وسلم في القسم بين زوجاته، حيث لم يفضل بعضهن على بعض فيه، فقد ذكرت فيه عائشة رضي الله عنها أنه كان غالبًا ما يطوف كل يوم على نسائه كلهن، فيلاطفهن ويداعبهن، من غير جماع لطمأنة أنفسهن، وحسن عشرته معهن، ثم كان يخص التي هو في يومها بالمبيت عندها، ولما كبرت سودة بنت زمعة رضي الله عنها ، وخشيت أن يفارقها النبي صلى الله عليه وسلم أرادت أن تبقى في عصمته وأن تظفر بهذا الشرف والفضل، وهو كونها أمًّا للمؤمنين وزوجة من زوجات سيد المرسلين صلى الله عليه وسلم ، فقالت: إني أهب نوبتي لـعائشة، فقبل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم . ثم ذكرت عائشة رضي الله عنها أن قوله تعالى : {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا} نزلت في مثل هذه الحال، وأشباهها.

  • بيان عدله -صلى الله عليه وسلم- في القسم بين زوجاته، وذكر ما كان عليه النبي -صلى الله عليه وسلم- من حُسْن الخلق وملاطفة الأهل.
  • أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان يطوف كل يوم على نسائه كلهن، فيلاطفهن ويداعبهن، من غير جماع, وأنه كان يخص التي هو في يومها بالمبيت عندها.
  • جواز دخول الرجل على المرأة التي ليس لها ذلك اليوم، ولا تلك الليلة لها, وجواز مداعبتها من دون جماع.
  • بيان وجوب العدل في القسم بين الزوجات، وأن الميل إلى بعضهن ظلم، والظلم محرم.
  • أن عماد القَسم المبيت في الليل, وأن النهار تابع, ويستثنى من ذلك ما إذا كان معاش الرجل في الليل, فيكون عماد القسم -في هذه الحال- النهار.
  • جواز هبة المرأة نوبتها لضرتها ويعتبر رضى الزوج في ذلك؛ لأن له حقًّا في الزوجة فليس لها أن تسقط حقه إلا برضاه.
  • أن المرأة إذا خافت النشوز من زوجها, وأرادت أن تبقى في عصمته, وأن لا يطلقها, فإنه يمكن أن تتفق معه على أن تتنازل عن حقها لغيرها, وأن تبقى في عصمته.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید