حدیث

رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق۔ پھر آپ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : منہ اور شرم گاہ۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

اس حديث کی سند حَسَنْ ہے۔اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكثر ما يُدْخِلُ الناسَ الجنة؟ قال: «تقوى الله وحسن الخلق»، وسئل عن أكثر ما يُدْخِلُ الناسَ النار، فقال: «الفم والفرج».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا:”اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق“۔ پھر آپ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، جو لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”منہ اور شرم گاہ“۔

تشریح

جن اسباب کی بنیاد پر لوگ سب سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے وہ اللہ کا تقویٰ اوراچھے اخلاق ہیں۔ اللہ کا تقویٰ ہر قسم کی حرام اشیا سے اجتناب کر کے ظہور میں آتا ہے اورحسن خلق مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ کرکے عمل میں آتا ہے۔ کم ترین حسن خلق یہ ہے کہ مخلوق کو تکلیف نہ دی جائے اور اعلی ترین یہ ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ جن اسباب کی بنیاد پر سب سے زیادہ لوگ جہنم میں جائیں گے، وہ منہ اور شرم گاہ ہیں؛ کیوں کہ انسان عموما انہی کی وجہ سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور لوگوں کی مخالفت کرتا ہے۔

تشریح: العربية

أكثر الأسباب التي تدخل الجنة هي تقوى الله وحسن الخلق وتقوى الله تكون بالابتعاد عن المحرمات بجميع أنواعها، وحسن الخلق يكون مع الخلق وأقله ترك أذاهم وأعلاه بالإحسان إلى مَن أساء إليه. وأكثر الأسباب التي تدخل النار هي الفم والفرج لأن الإنسان غالبًا ما يقع بسببهما في مخالفة الله سبحانه ومع الناس.

  • الحض على تقوى الله وحسن الخلق.
  • التحذير من اللسان وما يخرج منه لأنها تكب الناس في النار يوم القيامة.
  • التحذير من الزنا وأنه فاحشة سبيلها سوء العاقبة في الدنيا والآخرة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید