حدیث

جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أراد أَنْ يَخْرُج أَقْرَعَ بَيْن نِسائه، فأيَّتُهُنَّ يَخْرُج سَهْمُها خَرَج بها النبي صلى الله عليه وسلم ، فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا في غَزْوَةٍ غَزَاها، فَخَرج فيها سَهْمِي، فخَرَجْتُ مع النبي صلى الله عليه وسلم بَعْد ما أُنْزِلَ الحِجابُ».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک غزوہ کے موقع پر آپ ﷺ نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس مرتبہ میرا نام آیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ گئی، یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔

تشریح

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان کمالِ عدل سے کام لیتے تھےچنانچہ جب کسی سفر کا اردہ فرماتے تو ان کے دلوں کی تسکین کے لیے ان کے مابین قرعہ اندازی کرتے تھے اور جس کے نام قرعہ نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایسے ہی غزوۂ بنی مصطلق کے وقت آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کی اور قرعہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام نکلا چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سفر کیا، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ واقعہ اللہ تعالی کی جانب سے پردے کے احکام نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ اور یہ بات معلوم ہی ہے کہ دوسرے سفر میں اپنی بقیہ دوسری بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کرتے کیوں کہ پہلے سفر میں جس کے نام قرعہ نکلتا وہ اپنا حق پا چکی ہوتیں، اس طرح جب ایک ہی باقی بچتیں تو اگلے سفر میں بغیر قرعہ اندازی کے انہیں اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔

تشریح: العربية

تخبر عائشة رضي الله عنها في هذا الحديث أن النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- من كمال عدله بين نسائه كان إذا أراد أن يمضي إلى سفر يقرع بينهن تطييبًا لقلوبهن، فإذا خرج نصيب امرأة منهن أخذها معه، وأنه أقرع بين زوجاته في إحدى غزواته، وهي غزوة بني المصطلق، فخرج سهمها -أي عائشة- فسافرت معه، ثم ذكرت أن هذه الحادثة حصلت بعد أن أنزل الله تعالى الأمر بالحجاب. ومعلوم أنه في السفرة التالية يقرع بين بقية نسائه؛ لأن من خرج سهمها في المرة السابقة أخذت حقها، فإذا لم يبق إلا واحدة تعين خروجها في السفرة الأخيرة دون اقتراع.

  • وجوب العدل بين الزوجات حتى في السفر.
  • أن الزوج إذا لم يرد أن يسافر بزوجاته جميعًا، فإن المتعين عليه هو القرعة بينهن، فالتي يخرج سهمها يخرج بها معه في سفره.
  • أن القرعة طريق شرعي لتمييز المستحق.
  • كمال عدل النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • أن الزوج لا يقضي الأيام التي سافرها لبقية زوجاته, بل يستأنف القسمة من جديد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید