حدیث

عبد بن یزید نے جو رُکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا ـــــــ اُم رکانہ کو طلاق دے دی اور ایک عورت جو مزینہ کے قبیلے میں سے تھی اس سے نکاح کیا، وہ عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہﷺ! ابو رکانہ میرے کسی کام کے نہیں سوائے اس بال کے برابر۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن عباس رضي الله عنهما : طلق عبد يزيد -أبو رُكَانَةَ وإخوته- أم رُكَانَةَ، ونكح امرأة من مُزَيْنَة، فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم ، فقالت: ما يُغْنِي عني إلا كما تُغْنِي هذه الشعرة، لشعرة أخذتها من رأسها، ففرق بيني وبينه، فأخذت النبي صلى الله عليه وسلم حَمِيَّة، فدعا بركانة وإخوته، ثم قال لجلسائه: «أترون فلانا يُشْبِهُ منه كذا وكذا؟ من عبد يزيد، وفلانا يشبه منه كذا وكذا؟» قالوا: نعم، قال النبي صلى الله عليه وسلم لعبد يزيد: «طَلِّقْهَا» ففعل، ثم قال: «راجع امرأتك أم ركانة وإخوته؟» قال: إني طلقتها ثلاثا يا رسول الله، قال: «قد علمت راجِعْها» وتلا: {يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1]

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عبد بن یزید (جو رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد ہیں) نے ام رکانہ کو طلاق دے دی، اور ایک عورت جو مزینہ کے قبیلے میں سے تھی اس سے نکاح کیا۔ وہ عورت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور بولی یارسول اللہﷺ ابو رُکانہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال کے برابر اور ایک بال اس نے اپنے سر کا پکڑا یعنی میری حاجت روائی اس سے نہیں ہو سکتی۔ لہذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرادیں، رسول اللہﷺ یہ سن کر گرم ہوئے اور رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلا بھیجا پھر آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا کیا تم فلاں لڑکے کو دیکھتے ہو کتنا مشابہ ہے ابو رکانہ سے؟ لوگوں نے کہا ہاں پھر آپﷺ نے عبد بن یزید سے کہا اسے طلاق دے دے، اور اُم رکانہ سے رجوع کرلے۔ ابو رکانہ نے کہا کہ میں نے اس کو تین طلاق دی آپﷺ نے فرمایا: میں جانتا ہوں ، تو اس سے رجوع کر لے، اور اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ...﴾ ”اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انہیں طلاق دو...“۔

تشریح

عبد بن یزید نےجو رکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا اپنی بیوی اُم رکانہ کو طلاق دے دی اور مزینہ کے قبیلے میں سے ایک عورت سے نکاح کیا وہ عورت رسول اللہ ﷺکے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہﷺ! ابو رکانہ نامرد ہے اس کے پاس عورتوں سے ہمبستری کرنے کی طاقت نہیں۔ لہذا آپ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کرا دیں چنانچہ یہ سن کر رسول اللہﷺ بہت غصہ ہوئے اور آپ ﷺ کو غیرت آیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلابھیجا، پھر آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا:کیا تم رکانہ اور اس کے بھائیوں کو دیکھ رہے ہو شکل و صورت میں کس قدر مشابہ ہیں؟ یقیناً یہ سب اسی کی اولاد ہیں اور اس کی مردانگی میں کسی طرح کا شک و شبہہ نہیں جیسا کہ اُس کی قبیلہ مزینہ والی بیوی کا کہنا ہے۔ لوگوں نے کہا : ہاں ! آپ ﷺ نے عبد بن یزید سے کہا: اسے طلاق دے دو۔ اور ابو رکانہ سے آپ ﷺنےکہا کہ ام رکانہ اور رُکانہ کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کرلو اس کو اپنی زوجیت میں واپس کر لو تو ابو رکانہ نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ! میں نے اس کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہے، چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا : میں جانتا ہوں اس کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہے، لیکن ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی ہیں، لہذا تو اس سے رجوع کر لے، اور اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ...﴾ ”اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انہیں طلاق دو...“۔ اور مسند احمد میں ہے کہ رکانہ نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، جس کی وجہ سے بہت غمگین ہوئے، چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی ہے۔

تشریح: العربية

طلق عبد يزيد أبو ركانة، وأبو إخوة ركانة أم ركانة، وتزوج امرأة من مزينة، فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم ، فقالت إن أبا ركانة عنين لايستطيع أن يجامع النساء، ففرِّق بيني وبينه في النكاح. فأخذت النبي صلى الله عليه وسلم غيرة وغضب، فدعا بركانة وإخوته، ثم قال لجلسائه: أترون ركانة وإخوته متشابهين في الخلقة والصورة، فهم أولاده ولا شك في رجوليته، وليس كما زعمت امرأته المزنية. فقالوا: نعم هو كذلك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعبد يزيد: «طلقها» فطلقها. ثم قال له: راجع امرأتك أم ركانة وأم إخوته، وذلك بإرجاعها زوجة، فقال: إني طلقتها ثلاثاً يا رسول الله في مجلس واحد ، فقال: أي قد علمت أنك طلقتها ثلاثاً ولكن الطلاق الثلاث في مجلس واحد واحدة فراجعها وتلا: (يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن). ولفظ أحمد طلق ركانة امرأته في مجلس واحد ثلاثا فحزن عليها، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : فإنها واحدة.

  • أفاد الحديث اعتبار الطلاق الثلاث واحدة، وأن للمطلق الرجعة، إن لم تكن نهاية عدده من الطلاق.
  • وقوع الطلاق الثلاث لكنه واحدة؛ خلافا للرافضة الذين يقولون لا يقع أصلا.
  • أنه إذا كان المفتي على علم بالقضية التي تحتاج إلى تفصيل فإنه لا يجب عليه أن يستفصل؛ لأن النبي -عليه الصلاة والسلام- أمره بالمراجعة وقال: قد علمت أنك طلقت ثلاثا.
  • كمال وفاء النبي -صلى الله عليه وسلم- حيث أمر بإرجاع امرأته الأولى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید