حدیث

تین کام ایسے ہیں کہ انھیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں، ان کا اعتبار ہو گا؛ نکاح، طلاق اور رجعت۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ثلاث جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النكاح، والطلاق، والرَّجْعَةُ".

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا: ”تین کام ایسے ہیں کہ انھیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں، ان کا اعتبار ہو گا؛ نکاح، طلاق اور رجعت“۔

تشریح

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گر کوئی شخص الفاظ نکاح، طلاق یا رجعت کو مذاق کے طور پر کہے، تو یہ اس کی طرف سے واقع ہو جائيں گے؛ کیوں کہ ان احکام میں قصد وارادہ، سنجیدگی اور مذاق کا حکم ایک ہی ہے۔ چنانچہ جس ولی نے اپنے ما تحت کے کسی فرد کا عقد کرایا، اپنی بیوی کو طلاق دیا یا اس (طلاق) سے رجوع کیا، تو یہ ان (کلمات) کی ادائیگی کے وقت ہی سے نافذ ہوجائے گا، چاہے اسے سنجیدگی سےکہا ہو یا مذاق یا لہو ولعب کے طور پر کہا ہو؛ کیوں کہ ان عقود میں کوئی خیارِ مجلس اور خیارِشرط کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ تینوں احکام شریعت کی نگاہ میں بہت ہی بلند مرتبہ کے حامل ہیں۔ چنانچہ ان میں کھلواڑ کرنا یا ان کے متعلق مذاق کرنا جائز نہیں۔ پس جس کسی نے ان احکام کے متعلق کوئی لفظ اپنی زبان سے نکالے گا، وہ اس پر لازم ہو جائے گی۔

تشریح: العربية

يدل الحديث على أنَّ من تلفظ هازلاً بلفظ نكاح أو طلاق أو رجعة وقع منه ذلك، فالقصد والجد والمزح حكمهم واحد في هذه الأحكام، فمن عقد لموليَّته، أو طلَّق زوجته، أو أرجَعَها؛ نفذ ذلك من حين تلفظه بذلك، سواء كان جادًّا، أو هازلاً، أو لاعبًا؛ حيث إنه ليس لهذه العقود خيار مجلس ولا خيار شرط. وهذه الأحكام الثلاثة عظيمة المنزلة في الشريعة، ولهذا لا يجوز اللعب بها ولا المزح، فمن تلفظ بشيء من أحكامها لزمته.

  • الحديث يدل على نفوذ الأحكام المذكورة، وهي عقد النكاح، والطلاق، ورجعة الزوجة إلى عصمة النكاح ولو بالمزح.
  • تنبيه الإنسان بأن لا يمزح ولا يهزل بمثل هذه الأحكام؛ كما يفعله بعض الناس في مجالسهم العامة والخاصة، بل يكون الإنسان حذرًا؛ لئلا يقع فيما يورطه من الأمور.
  • الحديث مخصِّصٌ؛ لعموم حديث: "إنَّما الأعمال بالنِّيَّات"، فالعقود لا تنعقد عن هزل إلا هذه الثلاثة.
  • أنه لا يجوز التلاعب في ألفاظ هذه الأحكام لعظم هذه العقود وخطرها.
  • حسن تعليم الرسول -صلى الله عليه وسلم- حيث يذكر أشياء أحياناً للتقسيم والحصر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید