حدیث

اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان خیالات کو معاف کر دیا ہے، جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کر لیا جائے یا زبان سے ادا نہ کر دیا جائے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّمْ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان خیالات کو معاف کر دیا ہے، جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کر لیا جائے یا زبان سے ادا نہ کر دیا جائے۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ایک مسلمان کے دل میں آنے والے برے خیالات کی بنا پر اس وقت تک اس کا مواخذہ نہيں ہوگا، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یا ان کو بولا نہ جائے۔ کیوں کہ اس طرح کے خیالات معاف ہيں۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ امت محمدیہ کے افراد کے ذہن و دماغ میں گردش کرنے والے اور ان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات کو اس وقت تک قابل مواخذہ قرار نہيں دیا ہے، جب تک دل کے اندر بیٹھ نہ جائیں اور دل ان سے مطمئن نہ ہو جائے۔ ہاں جس کے دل میں تکبر، گھمنڈ اور نفاق وغیرہ برے خیالات بیٹھ جائيں اور جگہ بنالیں، یا جو اپنے اعضاء سے ان پر عمل کر لے یا زبان سے ان کا اظہار کر دے، تو پھر وہ قابل مواخذہ ہوگا۔

فوائد

  • اللہ تبارک وتعالی نے ان افکار و خیالات کو معاف کردیا ہے، جو دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی انسان اپنے دل میں ان کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کے ذہن میں وہ خیالات گزرتے ہيں۔
  • اگر انسان کے ذہن میں طلاق کا خیال آئے لیکن نہ وہ زبان سے بولے اور نہ قلم سے تحریر کرے تو اس کا اپنے دل میں طلاق کی بات کرنا اور اس بارے میں سوچنا طلاق شمار نہیں کیا جائے گا۔
  • دل سے گزرنے والے خیالات چاہے جتنے بڑے ہوں، اس وقت تک قابل مواخذہ نہيں ہیں، جب تک دل کے اندر جاگزیں نہ ہو جائيں اور انسان ان پر عمل نہ کرے یا زبان سے ان کو نہ بولے۔
  • امت محمدیہ کی ایک بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے دل میں آنے والے برے خیالات کی بازپرس نہيں ہوگی۔ جب کہ پہلے کی تمام امتوں سے باز پرس ہونی ہے۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ المسلم لا يُؤاخَذُ بحديث النَّفْس من الشر قبل العمل به أو التكلُّم به، حيث رفع الله الحرج وعفا، ولم يؤاخذ أمة محمد صلى الله عليه وسلم بما وُجِدَ في الذهن وتردد في النفس من غير أن يطمئن إليه ويستقر عنده؛ فإن استقرَّ في قلبه كالكبر أو الخيلاء أو النفاق أو عمل بجوارحه أو قال بلسانه فإنه يؤاخذ بذلك.

  • الله تبارك وتعالى تجاوز وعفا عن الأفكار والهواجس التي تطرأ على النفس، فيحدّث الإنسان بها نفسه، وتمر على خاطره.
  • الطلاق إذا فكَّر فيه الإنسان، وعرض في خاطره، ولكنه لم يتكلم به ولم يكتبه، فإنه لا يعتبر طلاقًا.
  • حديث النفس لا يؤاخذ به الإنسان مهما عظم ما لم يستقر في نفسه ويعمل به أو يتكلم به.
  • عظيم قدر أمة محمد صلى الله عليه وسلم باختصاصها بعدم المؤاخذة بحديث النفس بخلاف الأمم قبلنا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید