حدیث

تم نے سنت کے خلاف طلاق دی ہے اور سنت کے خلاف رجعت کی ہے، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمران بن حصين رضي الله عنهما أنه سُئِلَ عن الرجل يُطلِّق امرأته، ثم يَقَعُ بها، ولم يُشْهِدْ على طلاقها، ولا على رَجْعَتِهَا، فقال: "طَلَّقْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، وَرَاجَعْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ، أَشْهِدْ على طلاقها، وعلى رَجْعَتِهَا، ولا تَعُدْ".

ترجمہ

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دے دے پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کر لے اور اپنی طلاق اور رجعت کے لیے کسی کو گواہ نہ بنائے، تو انہوں نے کہا کہ ”تم نے سنت کے خلاف طلاق دی ہے اور سنت کے خلاف رجوع کیا ہے، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا“۔

تشریح

اس حدیث میں ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور پھر رجوع کے بعد اس سے صحبت بھی کر لی، طلاق اور رجوع پر کسی کو گواہ بنائے بغیر، آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس طلاق دینے والے نے دونوں حالتوں میں سنت کی مخالفت کی ہے، پہلے تو اس نے طلاق دیتے وقت کسی کو گواہ نہیں بنایا اور دوسری مرتبہ رجعت کے وقت بھی کسی کو گواہ نہیں بنایا، اور آپ نے طلاق و رجعت پر گواہ بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ اس طرح کا عمل پھر نہ دہرانا۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث سئل عمران بن حصين رضي الله عنهما عن رجل طلق امرأته، ثم جامعها بعد أن راجعها، من دون أن يشهد على الطلاق ولا على الرجعة، فأجاب رضي الله عنه بأن هذا المطلق قد خالف السنة في الحالين، في طلاقها ابتداء حين لم يشهد، وفي رجعتها ثانيًا حين لم يشهد أيضًا، وأمَره بالإشهاد على طلاقها، وعلى رجعتها، وأن لا يعود لمثل هذا العمل.

  • إثبات أصل مشروعية إرجاع الزوجة المطلقة إلى عصمة نكاح زوجها بالرجعة المعتبرة.
  • الرجعة لابد أن تكون في طلاقٍ رجعي، أما الطلاق البائن بينونة كبرى أو صغرى، فلا تصح الرجعة فيه.
  • أن الرجعة لا يعتبر فيها رضا الزوجة، لعدم ذكرها هنا، ولقوله -تعالى-: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ}، [البقرة: 228]، أي: في العدة.
  • استحباب الإشهاد على الطلاق، ليحصل التوثيق، وقد أجمع العلماء على أن الطلاق جائز ونافذ، ولو لم يحصل عليه إشهاد.
  • أن الشيء إذا فات وأمكن تلافيه فإنه يتلافى؛ لأمره بالإشهاد فيما بعد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید