حدیث

ظہار سے متعلق سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کی حدیث

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن سلمة بن صخر رضي الله عنه قال: كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ من النساء ما لا يُصِيبُ غيري، فلما دخل شهر رمضان خِفْتُ أن أصيب من امرأتي شيئا يُتَابَعُ بي حتى أصبح، فَظَاهَرْتُ منها حتى يَنْسَلِخَ شهر رمضان، فَبَيْنَا هي تَخْدُمُنِي ذات ليلة، إذ تَكَشَّفَ لي منها شيء، فلم أَلْبَثْ أن نَزَوْتُ عليها، فلما أصبحت خرجت إلى قومي فأخبرتهم الخبر، وقلت امشوا معي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قالوا: لا والله. فانطلقت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فقال: «أنت بِذَاكَ يا سلمة؟»، قلت: أنا بذاك يا رسول الله -مرتين- وأنا صابر لأمر الله، فاحكم فيَّ ما أراك الله. قال: «حَرِّرْ رقبة»، قلت: والذي بعثك بالحق ما أملك رقبة غيرها، وضربت صَفْحَةَ رَقَبَتِي، قال: «فصم شهرين متتابعين»، قال: وهل أصبت الذي أصبت إلا من الصيام؟ قال: «فأطعم وَسْقًا من تمر بين ستين مسكينًا»، قلت: والذي بعثك بالحق لقد بِتْنَا وَحْشَيْنِ ما لنا طعام، قال: «فانطلق إلى صاحب صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إليك، فأطعم ستين مسكينًا وسقًا من تمر وكُلْ أنت وعِيَالُكَ بَقِيَّتَهَا»، فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي، فقلت: وجدت عندكم الضِّيقَ، وَسُوءَ الرَّأْيِ، ووجدت عند النبي صلى الله عليه وسلم السَّعَةَ، وَحُسْنَ الرَّأْيِ، وَقَدْ أَمَرَنِي -أَوْ أَمَرَ لِي- بِصَدَقَتِكُمْ.

ترجمہ

سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں ایک ایسا شخص تھا، جو بیوی کے ساتھ اتنی مرتبہ صحبت کیا کرتا تھا، جو عام طور پر لوگ نہیں کرتے۔ جب ماہ رمضان آیا، تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت (جماع) نہ کر بیٹھوں، جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے۔ چنانچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کر لیا۔ ایک رات کی بات ہے، وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آ گیا، تو میں اس سے صحبت کیے بغیر نہیں رہ سکا۔ جب میں نے صبح کی تو اپنی قوم کے پاس آیا اور سارا ماجرا سنایا۔ نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس چلیں۔ وہ کہنے لگے:اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا! چنانچہ میں خود ہی آپ صلی اللہ علیہ سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”سلمہ! تم نے ایسا کر ڈالا ہے؟“ میں نے جواب دیا : ہاں اللہ کے رسول! مجھ سے یہ حرکت ہو گئی ہے، -دو بار اس طرح کہا- میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں۔ آپ میرے بارے میں حکم کیجیے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کر دو“۔ میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اس کے علاوہ میں کسی اور گردن (غلام) کا مالک نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو“۔ میں نے کہا: میں تو روزے ہی کے سبب اس صورتِ حال سے دوچار ہوا ہوں! آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ“۔ میں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانے کا کوئی سامان نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا :”بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمھیں اسے دے دیں گے۔ ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا“ اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا: مجھے تمھارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے مجھے -یا میرے لیے- تمھارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔

تشریح

صحابیٔ رسول سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں اپنی شدتِ شہوت کی وجہ سے اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنے سے رکنا چاہا۔ انھوں نے اس اندیشے کے تحت ان سے ظہار کر لیا کہ کہیں وہ اپنی بیوی کے ساتھ عملِ جماع میں مصروف ہوں اور فجر طلوع ہو جائے۔ مگر ایک رات انھوں نے جماع پر ابھارنے والی چیز دیکھی اور جماع کر بیٹھے اور اس گناہ کی زود اثری سے خائف ہو کر اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں اور اس مسئلے کا حکم دریافت کریں اور ان کا عذر پیش کریں۔ لوگوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ اس لئے وہ خود گئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا۔ آپ ﷺ نے کہا کہ کیا واقعی تم نے یہ کام کیا ہے اور اس کے مرتکب ہوئے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں! تو نبی ﷺ نے اس مسئلے کے سلسلے میں اللہ کا حکم انھیں بتلایا کہ وہ ایک گردن آزاد کریں اور یہ نہ پائیں تو مسلسل دو ماہ کا روزہ رکھیں اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ انھوں نے اپنی کمزور حالی، قلاشی، غلام آزاد کرنے اورکھانا کھلانے کی عدمِ ملکیت سے باخبر کیا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں اپنی قوم سے صدقہ لینے کا حکم دیا کہ وہ انہیں کھجور دیں تاکہ اسے اپنے ظہار کا کفارہ بنائیں اور اس میں سے جو بچ رہے اسے اپنے اہل و عیال کو کھلائیں۔

تشریح: العربية

أراد الصحابي سلمة بن صخر رضي الله عنه الامتناع من جماع زوجه في رمضان لقوة شهوته فظاهر منها، خشية أن يستمر في جماعها فيطلع عليه الفجر وهو كذلك، إلا أنه رأى منها ليلة ما يدعوه إلى جماعها فجامعها، وخاف من تبعات هذه المعصية فأمر قومه أن يذهبوا معه لرسول الله صلى الله عليه وسلم ويسألوا عن الحكم في هذه المسألة ويعتذروا عنه، فرفضوا الذهاب معه فذهب بنفسه وعرض مسألته على رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال له أنت فاعل ذلك الفعل والمرتكب له، فأجاب بنعم، فأخبره النبي -عليه الصلاة والسلام- بما عليه من حكم الله في هذه المسألة، وهي أن يعتق رقبة، فإن لم يجد صام شهرين متتابعين، فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينًا، فأخبره بضعف حاله وقلة ذات يده وعدم ملكه للرقبة ولا للطعام، فأمر له -عليه الصلاة والسلام- بصدقة قومه أن يدفعوا له تمرًا ليكفر به عن ظهاره ثم يطعم الباقي أهله وعياله.

  • أن الواجب هو إطعام ستين مسكينًا، والعدد هنا معتبر شرعًا، فلا يجوز أن يعطيها لشخص واحد.
  • أهمية البعد عما يثير الغرائز من مناظر مثيرة أو مجالس ماجنة أو أمكنة موبوءة بالفساد والمغريات، التي تهيج صاحبها إلى ارتكاب الخطيئة، والوقوع في الفاحشة.
  • تحصين الشارع المسلمين عن المعاصي بفرض هذه العقوبات التي تمنعهم من الوقوع في المعاصي.
  • رحمة الله تعالى بعباده المسلمين؛ حيث هيأ لهم هذه الكفارات التي تمحو ذنوبهم، وتزيل خطاياهم التي ارتكبوها.
  • تشوف الشارع إلى عتق الرقاب، وتحرير العبيد وإلى إطعام الفقراء والمساكين؛ فإنه جعل عتق الرقبة كفارة لكثير من الذنوب والمعاصي.
  • الظهار حرام، وهذا الرجل الذي ظاهر: إما أن يكون لم يبلغه التحريم، أو أنه يرى أن الوطء في رمضان أشد حرمة من الظهار؛ فحصن نفسه بالظهار عن الجماع.
  • سلمة -رضي الله عنه- ظاهر ثم جامع، فوقع في ذنبين عظيمين؛ فجاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-؛ ليجد عنده حل مشكلته.
  • الرجل جاء نادمًا تائباً خائفاً لذا لم يُعنفه النبي -صلى الله عليه وسلم-، وإنما أفتاه بما يكفر خطيئته، فأمره بالكفارة عن جماعه في حال ظهاره.
  • كفارة الظهار مرتبة وجوبا كما يلي:- عتق رقبة مؤمنة، فإن لم يجدها، أو لم يجد ثمنها:- صام شهرين متتابعين، فإن لم يستطع:- أطعم ستين مسكينًا، لكل مسكين مدَّ بُرٍّ، أو نصف صاع من غيره.
  • أن من ظاهر من امرأته ثم عاد وجامع فإنه تلزمه الكفارة السابقة.
  • أنه إذا جامع قبل أن يكفر لم تلزمه إلا كفارة واحدة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید