حدیث

اس عورت پر نظر رکھو۔ اگر وہ گورا چٹا، سیدھے بالوں اور سرخی مائل ڈھیلی آنکھوں والا بچا جنتی ہے تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا اور اگر وہ سرمئی آنکھوں، گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنتی ہے تو وہ شریک بن سمحاء کا ہوگا ۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

إن هِلال بن أُمية قذف امرأته بشريك ابن سَحْماء، وكان أخا البراء بن مالك لأمه، وكان أول رجل لَاعَنَ في الإسلام، قال: فَلَاعَنَهَا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أبصروها، فإن جاءت به أبيض سَبِطًا، قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ؛ فهو لهلال بن أمية، وإن جاءت به أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ؛ فهو لشريك بن سحماء»، قال: فأُنبِئْت أنها جاءت به أَكْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ.

ترجمہ

ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی کہ اس نے شریک بن سمحاء کے ساتھ زنا کیا ہے۔ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے اخیافی (ماں شریک) بھائی تھے اور اسلام میں لعان کرنے والے وہ پہلے آدمی تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی پر لعان کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس عورت پر نظر رکھو۔ اگر وہ گورا چٹا، سیدھے بالوں اور سرخی مائل ڈھیلی آنکھوں والا بچا جنتی ہے تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا اور اگر وہ سرمئی آنکھوں، گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنتی ہے تو وہ شریک بن سمحاء کا ہو گا“۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سرمئی آنکھوں، گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا“۔

تشریح

اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابیٔ رسول ﷺ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی کہ اس نے شریک بن سمحاء کے ساتھ زنا کیا ہےجب کہ اس کا حمل بھی ظاہر ہو چکا تھا۔ چنانچہ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لعان کر کے بچے کی اپنے نسب سے نفی کر دیں۔ لعان کچھ گواہیوں کا نام ہے جو میاں بیوی کے مابین ہوتی ہیں اور ان کی تاکید قسم اور ہر اس فریق پر لعنت کے ساتھ کی جاتی ہے جو جھوٹا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے کچھ ایسی نشانیاں بتائیں جن کے ذریعے یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ آیا وہ اپنے باپ کا بچہ ہے یا پھر اس شخص کا بچہ ہے جس کی وجہ سے وہ عورت حاملہ ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کے بال سیدھے اور کامل ہوں تو وہ اپنے باپ کا بچہ ہو گا کیونکہ اس صورت میں ان دونوں کے مابین مشابہت ہو گی۔ اور اگر وہ سرمئی آنکھو ں والا ہوا یعنی اس کے پپوٹوں کی جڑیں بہت زیادہ کالی ہوئیں اور اس کے بال گھنگھریالے یعنی مڑے اور سکڑے ہوئے ہوں تو وہ اس شخص کا بچہ ہو گا جس نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہےجو کہ شریک بن سمحاء تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاملہ عورت سے لعان کرنا جائز ہے۔

تشریح: العربية

أفاد هذا الحديث أن الصحابي هلال بن أمية رضي الله عنه قذف امرأته بالزنا، بأنها زنت مع شريك بن سحماء وقد استبان حملها، فأراد أن ينفي عنه الولد باللعان، وهي شهادات بين الزوجين تكون مؤكدة بحلف ولعن بينهما لمن كان كاذباً، ثم إنه -عليه الصلاة والسلام- ذكر علامات يُعرف بها الولد هل هو لأبيه أو لمن كان سببا ًفي حملها من الزنا، فذكر أنه إن كان شعره مسترسلاً كامل الخِلْقَةِ؛ فهو لأبيه وذلك لوجود الشبه بينهما، وإن كان الولد أكحل العينين أي شديد سواد منابت الأجفان، متجعد الشعر فيه التواء وتقبضٌ؛ فهو للذي زنا بها وهو شريك بن سحماء، فدل على مشروعية ملاعنة المرأة الحامل.

  • حقيقة انتقال الصفات الخلقية المنتقلة بالعوامل الوراثية، التي تكون سببا في تشابه الذرية بأبويها، بواسطة عملية التناسل في النبات والحيوان، ومنه الإنسان.
  • يدل الحديث على تقديم ظاهر الأحكام الشرعية على القرائن، التي لم يعول عليها، إلا إذا فقدت أصول الأحكام، التي تبنى عليها القضايا.
  • صحة اللعان للمرأة الحامل، ولا يؤخر إلى أن تضع، وإليه ذهب الجمهور لهذا الحديث.
  • فيه العمل بالشبه لقوله: (أبصروها).
  • في الحديث دليل على أنه ينتفي الولد باللعان.
  • في الحديث دليل على جواز ذكر الأوصاف المذمومة عند الضرورة الداعية إلى ذلك, ولا يكون ذلك من الغيبة المحرمة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید