حدیث

جب بندہ پلک جھپکنے کی حد تک بھی کسی بچے سے اپنے نسب کا اقرار کرے تو پھر اس سے نفی کرنا جائز نہیں ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

اس حديث کی سند حَسَنْ ہے۔اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: "إذا أقرَّ الرجل بولده طَرْفَةَ عين فليس له أن ينفيه".

ترجمہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب بندہ پلک جھپکنے کی حد تک بھی کسی بچے سے اپنے نسب کا اقرار کرے تو پھر اس سے نفی کرنا جائز نہیں ہے۔

تشریح

اس اثر میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب بندہ کسی بچے کے ساتھ اپنے نسب کا اعتراف کر لے تو پھر اس کی نفی اور انکار کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ ان حقوق العباد میں سے ہے جو اقرار سے ثابت ہوتے ہیں اور ان میں جھگڑنا اور انکار کرنا کوئی فائدے مند چیز نہیں۔

تشریح: العربية

أفاد الأثر أن الرجل إذا اعترف بنسب ولد إليه لم يكن له أن ينفيه عنه ولا أن ينكر نسبه إليه؛ لأن هذا من حقوق العباد التي ثبتت بالإقرار فلا ينفع فيها الجحود ولا النكران.

  • الشارع الحكيم له تَشَوُّف إلى حفظ الأنساب، وإلحاق الفروع بالأصول.
  • إذا أقر الإنسان بالولد ولو لحظة واحدة، ثبت نسبه إليه، ولا يمكنه نفيه أبدًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید