ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن جابر بن عبد الله قال: طُلِّقَتْ خالتي، فأرادت أن تَجُدَّ نَخْلَهَا، فَزَجَرَهَا رجل أن تخرج، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «بلى فَجُدِّي نَخْلَكِ، فإنك عسى أن تَصَدَّقِي، أو تفعلي معروفا».
ترجمہ
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی، انہوں نے (دورانِ عدت) اپنی کھجوروں کا پھل توڑنے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے انہیں باہر نکلنے پر ڈانٹا، تو وہ نبیﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو“۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جابر رضی اللہ عنہ کی خالہ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی، انہوں نے دورانِ عدت میں اپنے کھجوروں کا پھل توڑنا چاہا تو ایک شخص نے انہیں اس سے منع کر دیا، پس انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے بتایا کہ ان کے نکلنے میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہے، اور یہ اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ مطلقہ بائنہ اپنی عدت گزاری میں متوفیٰ عنہا (جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو) کی عدت گزاری کی طرح نہیں ہے، مطلقہ جب چاہے اپنی ضرورت کے مطابق باہر نکل سکتی ہے، اسی کے ساتھ عمومی طور پر عورت کا اپنے گھر میں رہنا ہی زیادہ افضل و بہتر ہے اور ازحد حفاظت و صیانت کا باعث ہے، اس لیے کہ نبی ﷺکا فرمان ہے کہ ”عورتوں کا گھر ان کے لیے بہتر ہے“۔ یہ فرمان عبادت، مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور بھلائی کی باتیں سننے کے متعلق ہے، تو پھر اس کے ماسوا کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟!
تشریح: العربية
أفاد الحديث أن خالة جابر رضي الله عنهما طلقها زوجها، فأرادت في وقت العدة أن تجد نخلها فمنعها رجل من ذلك، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرها بأنه لا حرج عليها في الخروج، وهذا يفيد أنَّ المطلقة طلاقًا بائنًا في عدتها ليست كالمتوفَّى عنها في عدة الوفاة، فلها الخروج لحاجتها متى شاءت، مع أنَّ الأفضل على وجه العموم: أنَّ بقاء المرأة في بيتها أفضل لها وأصون؛ فإنَّ النَّبي صلى الله عليه وسلم قال: "بيوتهن خير لهن"، هذا في حق العبادة، والصلاة مع المسلمين، وسماع الخير؛ فكيف مع غير ذلك؟
- جواز خروج المطلَّقة عند الحاجة، ومن الحاجة استحصال غلة عقارها؛ من جد ثمار، وحصد زروع، أو قبض أجور، ونحو ذلك.
- مفهوم الحديث أنَّ المحدة لا تخرج من منزلها مدة العدَّة والإحداد؛ فهذا ما فهمه الصحابة من أحكام ربّهم، وهذا ما دعا قريب المطلَّقة إلى زجرها عن الخروج.
- أنَّه يستحب لمن عنده تمر يجُدُّه أو يجنيه، أو زرع يحصده: أنْ يتصدَّق بجزء منه، ويُحْسِن إلى المحتاجين، وذلك من غير الزكاة، فهو من المعروف والإحسان.
- استحباب سؤال أهل العلم عن حقائق العلم التي يتسرع العوام إلى إفتاء الناس فيها بلا مستند شرعي.
- أنه قد يخفى على بعض الصحابة ما يخفى من أحكام الله -تعالى-.
- استحباب التعريض لصاحب النخل أو الزرع بفعل الخير والتذكير بالمعروف والبرّ؛ لأن بعض الناس قد يغفل عن ذلك.